حکومت نے ٹرانس شپمنٹ کے تحت بلک اور بریک بلک کارگو ہینڈلنگ کی منظوری دے دی ہے، جس سے بندرگاہوں پر کارگو کی آمد و رفت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
بدلتے ہوئے علاقائی سیکیورٹی حالات کے تناظر میں بحری شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے حکومت نے اہم اور تاریخی اقدامات کی منظوری دے دی ہے۔
یہ فیصلے وزیراعظم کی ہدایت پر قائم اعلیٰ سطحی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں کیے گئے، جس کی قیادت وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی بحری صنعت میں تیزی سے اضافہ، پورٹ قاسم اعلیٰ کارکردگی والا ٹرانس شپمنٹ مرکز بن گیا
حکومتی منظوریوں کو پاکستان کو خطے میں ایک مضبوط اور مسابقتی ٹرانس شپمنٹ مرکز بنانے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اس اقدام سے نئی شپنگ لائنز کو راغب کرنے اور اناج، کوئلہ، معدنیات اور پراجیکٹ کارگو کی مؤثر ترسیل میں مدد ملے گی۔
اسی طرح خصوصی رول آن/رول آف جہازوں کے ذریعے گاڑیوں کی ٹرانس شپمنٹ کی بھی منظوری دی گئی ہے، اس کے تحت کاریں، ایس یو ویز اور دیگر پہیوں والی گاڑیوں کی ترسیل ممکن ہوگی۔
مزید پڑھیں: پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے فضائی کمپنیوں کو اہم ہدایات جاری کردیں
جس سے آٹو لاجسٹکس کے شعبے کو فروغ ملے گا، وقت کی بچت ہوگی اور پاکستان خطے میں گاڑیوں کی تقسیم کا اہم مرکز بن سکے گا۔
حکومت نے کم مقدار والے کنٹینر کارگو کی ٹرانس شپمنٹ ہینڈلنگ کی بھی منظوری دی ہے، جس کے تحت چھوٹے کارگو کو یکجا اور دوبارہ تقسیم کرنا ممکن ہوگا۔
اس سے تاجروں کو زیادہ سہولت ملے گی اور عالمی لاجسٹکس کمپنیوں کے لیے پاکستان کی کشش میں اضافہ ہوگا۔
مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز بند: پاکستانی پورٹس کی دنیا بھر کو ٹرانزٹ سہولت دستیاب
یہ اقدام وسطی ایشیا کے خشکی سے گھرے ممالک کے لیے ٹرانزٹ تجارت کو بھی سہل بنائے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ فیصلے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں تجارتی راستے جغرافیائی و سیاسی تبدیلیوں کے باعث تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔
پاکستان کی جانب سے کارگو ہینڈلنگ کی صلاحیت میں تنوع اور آپریشنل لچک پیدا کرنا اسے علاقائی بندرگاہوں کے مقابلے میں نمایاں برتری دے سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: پورٹ قاسم پر تیل بردار جہاز کی ہنگامی برتھنگ شروع،مزید 2 جہاز جلد پاکستان پہنچیں گے
ان اقدامات سے بندرگاہوں کی آمدن اور زرمبادلہ میں اضافہ، لاجسٹکس اور متعلقہ شعبوں میں روزگار کے مواقع پیدا ہونے اور پاکستان کی عالمی سپلائی چین میں شمولیت مضبوط ہونے کی توقع ہے۔
وفاقی وزیر برائے بحری امور نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بندرگاہی انفرااسٹرکچر کو جدید بنانے، ریگولیٹری نظام کو مؤثر بنانے اور سرمایہ کار دوست ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
یہ بڑا اعلان حکومت کے اس وژن کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت پاکستان اپنے جغرافیائی محلِ وقوع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے بندرگاہوں کو معاشی ترقی اور علاقائی رابطوں کا مرکز بنانا چاہتا ہے۔













