سائنس دانوں اور ڈیزائنرز نے جمعرات کے روز ایک منفرد ہینڈ بیگ پیش کیا جو امریکا میں پائے جانے والے ٹائرانوسارس کے فوسلز سے حاصل کردہ کولیجن کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔
اس تخلیق کا مقصد لیبارٹری میں تیار کردہ چمڑے کی افادیت اور مستقبل کی صلاحیت کو اجاگر کرنا ہے۔
نیلے مائل سبز رنگ کا یہ بیگ آرٹس زو میوزیم میں ایک پنجرے کے اندر چٹان پر رکھا جائے گا، جہاں اسے ٹی۔ریکس کے مجسمے کے نیچے 11 مئی تک نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: صحارا کی گرد نے یونانی جزیرے کو نارنجی رنگ میں ڈبو دیا، پروازیں متاثر، طوفان سے تباہی
نمائش کے بعد اسے نیلامی کے لیے پیش کیا جائے گا، جس کی ابتدائی قیمت 5 لاکھ ڈالر سے زائد رکھی گئی ہے۔
اس منصوبے کے ماہرین کے مطابق یہ مواد قدیم پروٹین کے ان ٹکڑوں سے تیار کیا گیا جو ڈائناسور کی باقیات سے حاصل کیے گئے تھے۔
ان پروٹینز کو ایک نامعلوم جانور کے خلیے میں داخل کیا گیا، جہاں سے کولیجن تیار ہوا اور بعد ازاں اسے چمڑے کی شکل دی گئی۔
Tyrannosaurus rex fossils used to create one-of-a-kind ‘dinosaur handbag’ https://t.co/8KaS4CcHvT
— The Globe and Mail (@globeandmail) April 2, 2026
اس منصوبے میں شامل کمپنی دی آرگینائڈ کے سی ای او ٹامس مچل نے بتایا کہ اس عمل میں کئی تکنیکی مشکلات پیش آئیں۔
یہ منصوبہ آرگینائڈ اور تخلیقی ادارے وی ایم ایل کے اشتراک سے مکمل کیا گیا ہے۔
اس سے قبل بھی یہ ادارے 2023 میں ایک دیوہیکل میٹ بال تیار کر چکے ہیں جس میں وولی میموتھ کے ڈی این اے کو بھیڑ کے خلیوں کے ساتھ ملا کر استعمال کیا گیا تھا۔

بیگ کے لیے لیدر تیار کرنے والی کمپنی لیب گرون لیدرلمیٹڈ کے سی ای او چے کونن کا کہنا ہے کہ ٹی۔ریکس سے نسبت نے اس ایجاد کو ایک منفرد کشش دی ہے۔
ان کے مطابق یہ صرف ماحول دوست متبادل نہیں بلکہ ایک تکنیکی ترقی بھی ہے، تاہم اس دعوے پر بعض سائنس دانوں نے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔
دنیا کا سب سے معمر کچھوا زندہ نکلا، سوشل میڈیا پر موت کی خبر جعلی ثابت
ایمسٹرڈیم کی ایک یونیورسٹی سے وابستہ میلانی ڈیورنگ کا کہنا ہے کہ ڈائناسور کی ہڈیوں میں موجود کولیجن صرف ٹکڑوں کی صورت میں ہوتا ہے، جس سے مکمل جلد یا چمڑا تیار نہیں کیا جا سکتا۔
اسی طرح ٹامس ہولز جونیئر کے مطابق فوسلز میں ملنے والا کولیجن ہڈی کے اندر سے حاصل ہوتا ہے، نہ کہ جلد سے۔
مزید پڑھیں: ’آدھا انسان آدھا روبوٹ‘، آخر معاملہ کیا ہے؟
ٌ۔۔۔اور اس میں وہ ساختی خصوصیات موجود نہیں ہوتیں جو اصلی چمڑے کو منفرد بناتی ہیں۔’
تنقید کے جواب میں ٹامس مچل کا کہنا تھا کہ نئی تحقیق میں اختلاف رائے فطری امر ہے اور یہی سائنسی ترقی کی بنیاد بھی ہے۔
ان کے مطابق یہ کوشش اب تک کی سب سے قریب ترین مثال ہے جس میں ٹی۔ریکس سے متعلق کوئی شے تخلیق کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔













