دنیا میں ہر لمحے نت نئی ایجادات و اختراعات ہو رہیں ہیں اور ساتھ ہی کئی قدیم اشیا، ہنر، پیشے، رسم و رواج، انسانی صلاحیتیں، عادتیں اور جبلتیں مدھم او معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔ یہ سب جدت، جدیدیت، ماڈرن ازم یا دوسرے لفظوں میں انسانی تن آسانی کا کمال ہے۔
چور کا کُھرا اٹھانا، اس کے پیچھے چلتے چلتے، اس کے گھر تک پہنچنا بھی، بعض انسانوں کی ایسی ہی صلاحیت ہے جو ایک طرح سے انسان کو جبلت (Instinct ) کے طور پر قدرت کی جانب سے ودیعت ہوئی ہے۔ یہ ’لوک دانش‘ گئے زمانوں میں ہمارے دیہات میں عام تھی۔ ہر گوٹھ، گاؤں یا گراں میں کوئی نہ کوئی ایسا مقامی سراغ رساں (Detective! ) موجود ہوتا تھا جسے کسی گھر، دکان یا باڑے میں چوری کی واردات ہوجانے پر فوراً بلالیا جاتا تھا۔
اس سے پہلے متاثرہ فریق یعنی جس کے ہاں چوری کی واردات ہو جاتی تھی، وہ خود یہ دیکھ لیتا تھا کہ وارداتیے یا چور اگر اس کے گھر، دکان یا کسی اور جگہ داخل ہو کر قیمتی اشیا، زیورات، ساما، نقدی لے کر یا مویشی کھول کر لے گئے ہیں تو وہ اپنے پیچھے کیا ایسی نشانیاں یا سراغ چھوڑ گئے ہیں، جن کی مدد سے ان تک پہنچا جا سکتاہے؟۔
اس سلسلے میں سب سے بڑی مدد، ان چوروں کے نقش ہائے قدم یعنی پیروں کے نشانات سے ملتی تھی۔ جب گھر کا کوئی فرد یہ نشانات دیکھ لیتا تھا تو اپنے گھر سے تغا ریاں اور پراتیں لا کر ان نشانات کو محفوظ کرنے کے لیے ڈھک دیتا تھا تا کہ کسی کُھرا اٹھانے والے ’سیانے‘ کے آنے تک وہ نشانات (Clues ) محفوظ رہ سکیں۔ کُھرا اٹھانے والا جب آتا تو ایک ایک تغاری یا پرات احتیاط سے اٹھاتا، اس کے نیچے کچی زمین پر ثبت ہو جانے والے قدموں کے نشانات نہایت غور سے دیکھتا، جانچتا، آگے بڑھتا جاتا اور گاؤں والے، خاص طور سے اس متاثرہ گھر والے لوگ امید و بیم کی کیفیت میں اس کے پیچھے پیچھے یوں چلتے جاتے کہ چوروں کے پیروں ان کے نشانات سے ہٹ کر چلیں تا کہ یہ اہم ترین سراغ مِٹ نہ جائیں یا تازہ قدموں میں گڈ مڈ نہ ہوجائیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہمارے گاؤں دیہات کی عیدیں
گاؤں کے باہر نکل کر کُھرا اٹھانے والا یہ تعین کرتا تھا کہ واردتیے کس جانب گئے ہیں اور پھر گاؤں والوں کے ساتھ واپس آکر، کسی کی بیٹھک میں آکر ان کے ساتھ بیٹھ جاتا تھا۔ یہ واردات چونکہ رات کو یا پھر سپیدہ سحر نمودار ہونےسے پہلے ہوئی ہوتی تھی، اس لیے بیٹھک میں ان لوگوں کے واپس آتے ہی متاثرہ گھر سے کُھرا اٹھانے والے کے لیے خصوصی ناشتہ آتا تھا، جس میں حسبِ توفیق پڑوسی بھی اپنا حصہ ڈالتے تھے۔۔۔ خاطر تواضع میں بھی اور کھانے میں آکر شامل ہونے کی صورت میں بھی۔
کُھرا اٹھانے والا جو اس وقت تمام لوگوں کی توجہ اور امیدوں کا مرکز ہوتا تھا ، وہ وی آئی پی بنا نہایت رغبت سے ناشتہ کرتا، چائے لسی پی کر چند ڈکاریں مارتا اور پھر وہاں موجود لوگوں کے چہروں پر طائرانہ نظر اچھالتا اور آخر میں متاثرہ فرد کے چہرے پر دانش ورانہ نظر اس طرح جما دیتا، جیسے اسے یہ جتا رہا ہو کہ ’ہم سب جان چکے ہیں،تم فکر مت کرو!‘۔
پھر وہ اپنی جیسی تیسی آواز کو رعب دار، گمبھیر اور پراسرار بنانے کی کوشش کر کے، حاضرین کو آگاہ کرتا کہ چور یا وارداتیے تعداد میں کتنے تھے، رات کے کس وقت وہ یہاں آئے، کب گئے اور ان کا رُخ کس جانب ہے ؟۔ چوںکہ وہ علاقے کے بیشتر چوروں کے کُھرے پہچاننے کی صلاحیت رکھتا تھا، اس لیے اگر اپنے طور پر چوروں کی اس ٹولی میں سے کسی کو یا سب کو پہچان چکا ہوتا، تب بھی اس وقت یہ انکشاف نہ کرتا۔ اس پردہ پوشی کی کئی وجوہات ہوتی تھیں۔ ایک تو وہ پہلے خود تصدیق یا توثیق کرنا چاہتا کہ چوروں کے کُھرے پہچاننے میں اس سے کوئی غلطی تو نہیں ہوئی؟
دوسرا اسے یہ خدشہ لاحق ہوتا(جو کہ عموماً درست بھی ہوتا) کہ کہیں چوروں کا کوئی ساتھی، کوئی سازشی یا کوئی گھر گاؤں کا بھیدی وہاں موجودنہ ہو جو انکشاف ہوتے ہی ان وارداتیوں کو خبر نہ کر دے کہ تمھارے کُھرے پہچان لیےگئے ہیں، اس لیے پکڑے جانے سے پہلے ادھر اُدھر ہوجاؤ!۔
تیسری وجہ یہ ہوتی تھی کہ کُھرا اٹھانے والا بھی چوںکہ اسی علاقے کا باشندہ ہوتا تھا، اس لیے اسے پتا ہوتا تھا کہ کون سے چور یا چوروں کی ٹولی کس جاگیردار، با اثر وڈیرے یا غنڈے کی سرپرستی میں وارداتیں کر رہی ہیں۔ اس لیے وہ احتیاط برتتا کہ سر عام انکشاف کر دینے پر اس کی اپنی جان کے لالے نہ پڑ جائیں۔ یہ آخری وجہ کچھ زیادہ اہم نہ ہوتی تھی کہ کُھرا اٹھانے والے کو گئے زمانے میں دلیر مانا جاتا تھا جو کسی کی دھونس دھمکی میں نہ آتا، دوسرے اسے علاقہ پولیس کے ایماندار افسر یا اہلکاروں کی پشت پناہی حاصل ہوتی تھی اور تیسرا یہ کہ ایسے مقامی سراغ رسانوں کو معاشرے میں نہایت معزز مقام حاصل ہوتا تھا کیوں کہ وہ بغیر کسی معاوضے، لالچ کے یہ خدمات انجام دیتے تھے۔
مزید پڑھیے: درگاہ گاجی شاہ اور جن نکالنے کے کرتب
اور اب تو یہ معاملہ ہو چکا ہے کہ چور چوری کی واردات کر کے، کچے گاؤں سے گزر کر گاؤں کی پکی سڑک پر چڑھتے ہیں تو کُھرا غائب ہوجاتا ہے۔ اگر کُھرا اٹھانے والا قسمت سے کوئی مل بھی جائے تو وہ کچی گلیوں میں ہی ٹامک ٹوئیاں مارتا رہ جاتا ہے کہ پختہ سڑک پر نہ پیروں کے نشان پڑتے ہیں اور نہ چوری کی کوئی علامت ملتی ہے۔
یوں کُھرا اٹھانے کی یہ ہزاروں برس قدیم سائنس معدوم ہونے پر ہے جو صرف ہمارے ایشیا کے دیہات تک محدود نہ تھی بلکہ امریکا کے اصل مالک ریڈ انڈین باشندے بھی چوروں کے کُھرے اٹھانے کے بڑے ماہر تصور کیے جاتے تھے۔ مگر پھر وہ بھی ان ’چورو ں‘ سے ہار گئے جو اُن کی زمین، تہذیب، تاریخ اور اصل نسل پر ڈاکہ ڈال کر قابض ہوگئے۔۔۔ اور آج ریڈ انڈین باشندے کسی کسی ریاست کے دور افتادہ اور محدود علاقے میں بطور تبرک بچا کر رکھے گئے ہیں۔
کھرا اٹھانے والے کو سندھ میں ’پَیرِی‘ کہا جاتا ہے ۔۔۔ یعنی پیر کا نشان پہچاننے والا۔ یہ لوگ بہت ذہین، مشاہدے کی دولت سے مالا مال، سیلانی فطرت اور سچے ہوتے ہیں۔ وہ زندگی کا بڑا حصہ معاشرے کے منفی کرداروں کا مشاہدہ کرنے، ان کی حرکات و سکنات پر نظر رکھنے میں گزار دیتے ہیں۔ خاص طور پرچوروں، نقب زنوں، راہزنوں کی چال چلن، قدم و اقدام، عادت پر غور کر کے علاقے کے ہر وارداتیے کی علامتیں اپنے ذہن میں بٹھا لیتے ہیں کہ کون کس طرح چلتا ہے، کس پاؤں پر دباؤ ڈالتا ہے، سیدھا پاؤں پہلے اٹھاتا ہے یا دھوکہ دینے کے لیے الٹا پاؤں پہلے رکھتا جاتا ہے؟۔ پاؤں کو باہر کی جانب پھینکتا چلتا ہے یا اندر دباتا قدم اٹھاتا ہے؟۔ اگر الٹا پاؤں پہلے اٹھا رہا ہے تو اسے کتنے فاصلے پر زمین پر مارتا ہے اور اس کے بر عکس چلتا جارہا ہے تو کتنے لمبے ڈگ بھرتا ہے؟
پیری اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھتا ہے کہ چور کے پاؤں آپس میں الجھتے ہیں کہ صاف صاف چلتے ہیں؟ قدموں کے مابین کتنا فاصلہ چھوڑ رہا ہے اور یہ فاصلہ مسلسل برقرار رکھتا ہے یا الجھانے کے لیے اس کو کم زیادہ کرتا رہتا ہے؟۔ پیری لوگ چور کے ایک قدم کا دوسرے سے فاصلہ بھی نظر میں رکھتے ہیں، اس سے انہیں چور کے قد و قامت کا اندازہ ہوتا ہے۔ لمبے قد والا آدمی قدرتی طور پر لمبے ڈگ بھرتا چلتا ہے اور تھوڑے قدموں سے زیادہ فاصلہ طے کرتا ہے۔ کوتاہ قد اس کے بر عکس چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا ہے۔ بعض ہوشیار، شاطر اور ماہر چور اس تکنیک سے انحراف کر کے، پیری کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں مگر ذہین پیری،ان کے قدموں کے زمین پر پڑنے والے دباؤ سے اندازہ کرلیتے ہیں کہ انہیں غلط کرنے کے لیے قدموں کو چھوٹا بڑا یا ہلکا اور بھاری کیا گیا ہے۔
ہمارے آبائی علاقے دادو کے پَیری (کھوجی) عبداللہ بھی اپنے کام کے ماہر مشہور رہے ہیں۔ انہوں نے چور کے پیروں کے نشان یعنی کُھرے کی خصوصیات سے متعلق یوں بتایا:
’اگر زمین پر ثبت کُھرا واضح اور دباؤ والا نظر آتا ہے تو اس سے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ چور جو ہے، وہ موٹا یا بھاری بھرکم ہوگا۔ اگر پاؤں کا دباؤ کم نظر آتا ہے تو پھر سمجھا جاتا ہے کہ ہلکا پھلکا بندہ ہے جو یہ واردات کر گیا ہے۔ اگر پاؤں پورا کا پورا زمین پر ثبت ہو رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ بندے کے پاؤں کے تلوے سپاٹ ہیں۔ اور جن کے پاؤں کا اگلہ پنجہ ، ایڑی اور باہر والی سائیڈ زمین پر ثبت ہوتی ہے تو اسے ہم پیری یا کھوجی لوگ زنانہ یا پدمنی پاؤں والا چور قرار دیتے ہیں۔ ایسے چور کا پورا جسم بے حد لچکدار ہوتا ہے۔
وہ وارداتیوں کے گروہ کا اثاثہ سمجھا جاتا ہے کیوں کہ ایسے لچکیلے اور چھریرے بدن والا چور روشندانوں میں سے بھی گزر جاتا ہے اور تنگ جگہوں سے گھس کر اپنے ساتھیوں کے لیے دروازہ کھول لیتا ہے۔ ایسے چور کے بازو بھی لچکدار اور پیچھے کی جانب آرام سے مڑنے والے ہوتے ہیں۔ یوں کسی کے پاؤں کی انگلیاں اور ان کے نیچے والا اُبھرواں حصہ، زمین پر زیادہ دباؤ کے ساتھ پڑتا ہے۔ کسی کے پاؤں کا دایاں حصہ تو کسی کا بایاں حصہ دباؤ ڈالتا چلتا ہے ۔ کچھ لوگ پاؤں جما کر چلتے ہیں تو کچھ پاؤں گھساتے ہوئے چلتے ہیں‘۔
ایک کھوجی کا انٹرویو میں نے کئی سال پہلے ایک سندھی ٹی وی چینل پر سنا تھا، جس میں وہ بتا رہا تھا کہ چور یا وارداتیے کا کھرا دیکھ کر، ہمیں یہاں تک اندازہ ہوجا تا ہے کہ بندہ چلنے میں جلد بازی کر رہا ہے تو کیا خوفزدہ ہے یا بد حواس ہے؟۔۔۔ پھر چوری کر کے اگر دوڑتا چلا جاتا ہے تو بھی پرانا چور کوشش کرتا ہے کہ اس کا پاؤں زمین پر کم دباؤ سے لگے اور اس کے دوڑنے سے دھمک بھی نہ ہو ۔
اس کے علاوہ ماہر کھوجی، کھرے کا مشاہدہ کر کے، یہ بھی جان لیتے ہیں کہ چور اسی علاقے سے تعلق رکھتا ہے یا کسی اور علاقے سے آیا تھا؟۔ یوں کھوجی نہ صرف چور کی جسامت، انداز و اطوار سے واقف ہو سکتے ہیں بلکہ وہ اس کی ذہنی کیفیت تک جان لیتے ہیں۔
چوروں کی اَقسام
چوروں کی ویسے تو کئی اقسام ہوتی ہیں مگر خاص طور پر تین طرح کے چور اہم ہوتےہیں۔ پہلا سب سے چالاک، ماہر اور قابل چور نقب زن کو قرار دیا جاتا ہے جو واردت کرنے آتا ہے تو الٹا چل کر آتا ہے اور واپس جاتے وقت بھی الٹے پاؤںچلتا جاتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ واپس نہیں جارہا بلکہ ابھی چوری کرنے یا نقب مارنے آرہا ہے!۔ وہ کھوجی کو یوں دھوکہ دیتا ہے کہ جہاں سے وہ آرہا ہے، اصل میں اس جانب وہ واپس روانہ ہوا ہوتا ہے۔ نقب زن یہ ترکیب بھی کرتا ہے کہ واردات پر نکلتے وقت اپنے پیروں کے نیچے ’جار‘ کے درخت کے نر م پتے یا لئی کی جھاڑیوں کی نرم شاخیں باندھ لیتا ہے۔ اس طرح اپنے کُھرے، چلنے کے انداز، پاؤں رکھنے اور اٹھانے کے طریقہ، پیر کی دبازت اور دو قدموں کے درمیانی فاصلے کو وہ چھپا لیتا ہے۔ مگر ماہر کھوجی ایک طرح سے ’چور کے اوپر مور‘ ہوتا ہے۔ وہ ان مدھم اور دھندلے نشانات پر دوڑنا شروع کرتا ہے، پھر واپسی میں چور کی طرح الٹے پاؤں چلتا جاتا ہے۔ یوں کھوجی چور کی چال، ٹائمنگ اور راستہ متعین کرلیتا ہے۔ پھر اپنے ذہن میں ان نقب زنوں کی شکلیں گھماتا ہے کہ اپنے علاقے کا کون سا چور یہ طریقہ اختیار کر سکتا ہے؟۔ اگر وہ سمجھ جاتا ہے کہ فلانا چور ہو سکتا ہے تو پھر اپنے علاقائی مخبروں سے اس کی اُس دن کی مصروفیات کا پتا کراتا ہے ۔ اس طرح شک پختہ ہوجانے کی صورت ہی میں کھوجی نتیجے پر پہنچ کر چور کی نشاندہی کر دیتا ہے۔ اگر یوں کامیابی نہ ملے تو پھر وہ آس پاس کے علاقوں میں موجود کھوجیوں سے مل کر، چوروں یا نقب زنوں کے چھوڑے ہوئے شواہد بیان کر کے، ملزم کی نشاندہی کے لیے ان سے مدد مانگتا ہے۔
مزید پڑھیں: موکھی متارا: کراچی کی ایک تاریخی داستان
کھوجی کے لیے واردات کے وقت کا تعین کرنا پہلی ترجیح ہوتی ہے۔ اس لیے جب اسے بلایا جاتا ہے تو وہ چور کے کھرے کو دیکھ کر اس وقت کا تعین کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ چور آیا کب اور گیا کب ہے؟۔ اس کے لیے وہ موسم اور اپنے مشاہدے کے امتزاج سے کام لینے کی کوشش کرتا ہے۔ نصف شب کے قریب دیہات میں اوس(شبنم) پڑنی شروع ہوجاتی ہے۔ صبح کو جب کھرا اٹھانے والا بندہ، چور کے کھرے پر اوس کے نشانات پڑے ہوئے دیکھتا ہے تو وہ سمجھ جاتا ہے کہ چور نصف شب سے پہلے آیا تھا۔ اوس کے قطروں کے نشانات کم یازیادہ ہونے سے واردات کے وقت کا تعین کیا جاتا ہے۔ اگر کھرے پر پرندوں کے پنجوں کے نشانات بھی ہوں تو اس سے کھوجی اندازہ لگاتا ہے کہ چور فجر سے ذرا پہلے گزرا ہے۔ اس طرح واردات کے وقت کا تعین کر لیا جاتا ہے۔
مگر اب وہ ماحول، وہ کھرا اٹھاکر چوروں کی نشاں دہی کرنے والے ماہر کھوجی نایاب ہوگئے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ اب وہ پرانے وضع دار چور بھی نہیں رہے، جن تک کھوجی پہنچتے تھے تو وہ اپنا راز، راز رکھنے کی شرط پر چوری کیا ہوا مال لوٹا دیتے تھے۔ اور کھوجی سامان ورثا کو واپس کردیتا تھا مگر کبھی چور کا نام ظاہر نہیں کرتا تھا۔ اب تو ایسے چوروں کی جگہ ڈاکوئوں نے لے لی ہے جو دن دیہاڑے وارداتیں کرتے ہیں اور چہرے بھی نہیں چھپاتے کیوں کہ انھیں پتا ہوتا ہے کہ انہیں پکڑنے اور قانون پر عمل کروانے والے بھی سچے نہیں رہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













