بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان نے ہفتے کی صبح وزیراعظم آفس میں ملک کے سرکردہ کاروباری رہنماؤں سے اہم ملاقات کی، جس میں معیشت کو درپیش چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق اجلاس کا آغاز تقریباً ساڑھے 11 بجے ہوا، جس میں وزیر خزانہ امیر خسرو محمود چوہدری اور وزیر تجارت خندقار عبدالمقتدر سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں توانائی بحران سرفہرست موضوع رہا، جبکہ مجموعی معاشی صورتحال اور درپیش مشکلات پر بھی غور کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ثقافتی تعاون بڑھانے پر اتفاق
اجلاس کے دوران ملک کی پہلی ‘پرائیویٹ سیکٹر ایڈوائزری کونسل’ کا باضابطہ آغاز بھی کیا گیا، جس کا مقصد حکومتی پالیسی سازوں اور کاروباری برادری کے درمیان مؤثر رابطے کے لیے ایک منظم پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔
وزیراعظم کی زیر صدارت قائم اس کونسل میں وزیر خزانہ، وزیر تجارت اور مختلف شعبوں جیسے ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل، جوتے سازی، آٹو موبائل اور کنزیومر گڈز سے تعلق رکھنے والے نو ممتاز کاروباری افراد شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ثقافتی تعاون بڑھانے پر اتفاق
کاروباری رہنماؤں کی جانب سے اجلاس میں بینکوں کے بلند شرح سود، مالی وسائل تک محدود رسائی اور کیپٹل مارکیٹ میں عدم استحکام جیسے اہم مسائل اٹھائے جانے کا امکان ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد سرکاری اور نجی شعبوں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینا، معاشی چیلنجز سے نمٹنا اور پائیدار ترقی کو یقینی بنانا ہے۔













