بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (ئی ایم ایف ) نے پاکستان کو نئے بجٹ میں بجلی سبسڈی کے لیے 830 ارب روپے مختص کرنے کی اجازت دے دی ہے، جس میں سے 300 ارب روپے بجلی کی چوری اور ناقص بل وصولی کے لیے مخصوص کیے گئے ہیں۔
تاہم آئی ایم ایف نے شرط عائد کی ہے کہ جنوری 2027 میں بجلی کے نرخ بڑھائے جائیں گے، حکومت نے اس شرط کو 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کے نئے اسٹرکچرل بینچ مارک کے طور پر قبول کرلیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان معاشی اصلاحات کا مستقل نفاذ یقینی بنائے، آئی ایم ایف کا مطالبہ
میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی ایم ایف نے بجلی کے نرخ بڑھانے کو سالانہ ایڈجسٹمنٹ کا حصہ قرار دیا ہے تاکہ مشرق وسطیٰ میں تنازع کے باعث پیدا ہونے والی بجلی پیداوار کی بڑھتی ہوئی لاگت کو مکمل طور پر مدنظر رکھا جا سکے۔
830 ارب روپے کی سبسڈی میں ٹیرف ڈیفرینشل اثر، سابقہ فاٹا کے بقایاجات کی ادائیگی، زرعی ٹیوب ویل، سرکولر قرض کی ادائیگی اور چوری و دیگر لاگتوں کا ازالہ شامل ہے۔ حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دلایا کہ بروقت ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے پاور سیکٹر کی مالی پائیداری کو یقینی بنایا جائے گا اور سرکولر قرض کے بڑھنے کی روک تھام کی جائے گی۔
حکومت نے آئی ایم ایف کو یہ بھی بتایا کہ بجلی کے نجی شعبے میں شمولیت کارکردگی، افادیت اور گورننس بہتر کرے گی اور پاور سیکٹر کے سرکولر قرض کے عوامل کو کم کرنے میں مدد دے گی۔ تاہم اسلام آباد، گوجرانوالہ اور فیصل آباد کے پاور ڈسٹریبیوشن کمپنیاں نجکاری اگلے سال تک ملتوی کردی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پاگیا، 1.2 ارب ڈالر ملیں گے
آئی ایم ایف نے بجلی سبسڈی کی اجازت دی مگر ایندھن پر سبسڈی دینے کی اجازت نہیں دی، باوجود اس کے کہ عالمی سطح پر قیمتیں جنگ کے باعث بڑھ گئی ہیں۔ سبسڈی کا مقصد ڈسٹریبیوشن کمپنیز اور کے الیکٹرک کے ٹیرف ڈیفرینشل، فاٹا اور زرعی ٹیوب ویل کے بقایاجات اور سرکولر قرض کے بقایاجات کو پورا کرنا ہے۔
حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دلایا کہ وہ تمام آئی پی پیز کے ساتھ بقایاجات کے معاملات جون 2026 تک طے کرے گی اور KE کے ساتھ زیر التوا قانونی تنازع کو دسمبر 2026 تک حل کرنے کی کوشش کرے گی۔ مزید برآں، قابل تجدید توانائی کے منصوبے فروغ پائیں گے اور بجلی کی پیداوار کی استعداد کو طلب کے مطابق بہتر بنایا جائے گا تاکہ گرڈ کی پائیداری یقینی بنائی جا سکے۔
آئی ایم ایف نے پاور سیکٹر مینجمنٹ کمپنی کے انسانی وسائل کو مضبوط کرنے اور فیس بیسڈ فنانسنگ میکانزم کو مستحکم کرنے کی بھی شرط عائد کی ہے تاکہ مالی استحکام اور وسائل کی کفایت کو یقینی بنایا جاسکے۔













