دنیا کی بدلتی ہوئی سیاست میں جب بھی بڑے بحران جنم لیتے ہیں، تو پسِ پردہ سفارت کاری ایک فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ یہی وہ خاموش عمل ہوتا ہے جو بظاہر نظر نہیں آتا، مگر عالمی فیصلوں کی سمت متعین کرتا ہے۔ آج اگر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ پاکستان پہلی بار عالمی امن کی سہولت کاری کے مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے، تو تاریخ اس دعوے کی تردید کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان ماضی میں بھی کئی اہم مواقع پر عالمی طاقتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کر چکا ہے اور ان کوششوں نے دنیا کا نقشہ بدلنے میں اہم حصہ ڈالا۔
1971 میں ہونے والی خفیہ سفارت کاری اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ اس وقت امریکا اور چین کے درمیان کوئی باضابطہ سفارتی تعلقات موجود نہیں تھے۔ ایسے میں پاکستان نے ایک خاموش مگر نہایت اہم کردار ادا کیا۔ امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر پاکستان کے ذریعے خفیہ طور پر چین پہنچے، جہاں انہوں نے اعلیٰ چینی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ یہ مشن نہ صرف انتہائی حساس تھا بلکہ مکمل رازداری میں انجام پایا۔ بعد ازاں امریکی صدر رچرڈ نکسن کا تاریخی دورۂ چین ممکن ہوا، جس نے عالمی سیاست کا رخ بدل دیا۔ خود کسنجر نے اپنی کتاب میں تسلیم کیا کہ بڑی طاقتوں کے درمیان ایسے روابط اکثر کسی تیسرے ملک کے ذریعے ہی ممکن ہوتے ہیں اور اس مثال میں پاکستان مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔
اسی طرح 1988 میں افغانستان سے سوویت انخلا کے لیے ہونے والا جنیوا معاہدہ بھی پاکستان کے کردار کے بغیر ممکن نہ تھا۔ اس معاہدے میں پاکستان نے نہ صرف ایک فریق کے طور پر حصہ لیا بلکہ سفارتی سطح پر مذاکرات کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دینا بھی پاکستان کی عملی اور انسانی سفارت کاری کا حصہ تھا، جسے عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا۔
جدید دور میں 2020 کا دوحہ معاہدہ بھی پاکستان کی سفارتی مہارت کا عکاس ہے۔ اگرچہ یہ معاہدہ قطر میں طے پایا، مگر پسِ پردہ پاکستان نے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے اور اعتماد سازی میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ وہ خاموش سفارت کاری تھی جس نے دو دہائیوں پر محیط جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کی۔
بین الاقوامی ماہرین اور مختلف تصنیفات میں بھی پاکستان کے اس کردار کو تسلیم کیا گیا ہے، جہاں اسے ایک ’برج اسٹیٹ‘ یعنی مشرق اور مغرب کے درمیان ایک قدرتی پل قرار دیا گیا۔ یہ وہ صلاحیت ہے جو ہر ملک کے پاس نہیں ہوتی، اعتماد پیدا کرنا، رابطے قائم رکھنا، اور حساس معاملات میں توازن برقرار رکھنا۔
آج کے عالمی تناظر میں، جہاں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، امریکا اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی رقابت، اور مختلف علاقائی تنازعات شدت اختیار کر رہے ہیں، پاکستان ایک بار پھر اہمیت اختیار کر رہا ہے۔ اس کی جغرافیائی حیثیت، سفارتی تجربہ اور ماضی کا کردار اسے ایک منفرد مقام دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سفارتی حلقوں میں پاکستان کو ایک بار پھر ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ کہنا درست نہیں کہ پاکستان پہلی بار عالمی امن کے لیے سہولت کاری کر رہا ہے۔ تاریخ واضح طور پر بتاتی ہے کہ 1971 کی خفیہ سفارت کاری، 1988 کا جنیوا معاہدہ، اور 2020 کا دوحہ معاہدہ، یہ سب اس بات کے ثبوت ہیں کہ پاکستان ہمیشہ عالمی امن کی کوششوں میں ایک خاموش مگر فیصلہ کن کردار ادا کرتا آیا ہے۔
ماضی سے حال تک اعتماد کا یہ تسلسل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جب بھی عالمی طاقتوں کو کسی ایسے ملک کی ضرورت ہوتی ہے جو نہ صرف قابلِ اعتماد ہو بلکہ پیچیدہ حالات میں توازن قائم رکھ سکے، تو پاکستان ایک مضبوط انتخاب کے طور پر سامنے آتا ہے۔ موجودہ حالات میں بھی اگر پاکستان کو کسی بڑے سفارتی عمل میں کردار دیا جاتا ہے، تو یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ اسی تاریخی تسلسل کا حصہ ہوگا۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا کردار اکثر پسِ منظر میں رہتا ہے، مگر اس کے اثرات عالمی سطح پر نمایاں ہوتے ہیں۔ یہی وہ خاموش طاقت ہے جو نہ صرف تنازعات کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے بلکہ دنیا کو ممکنہ بڑے تصادم سے بچانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے اس کردار کو کچھ حلقے ہضم نہیں کر پاتے، مگر تاریخ اپنے حقائق خود بیان کرتی ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













