وفاقی آئینی عدالت میں گلگت بلتستان سے متعلق مجوزہ قانون سازی کے معاملے پر سماعت ہوئی، جس دوران عدالت نے حکومت سے موجودہ اور مجوزہ قانون سازی کا مکمل ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون سازی کے لیے عدالت سے اجازت کیوں مانگی جا رہی ہے اور اس معاملے پر گلگت بلتستان کے سینیئر سیاستدانوں سے مشاورت ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت قانون سازی کی مجاز ہے، تاہم سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں بعض امور پر وضاحت ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیے: وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ، 1985 سے جاری جائیداد تنازع ختم
ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت کو بتایا کہ حکومت قانون سازی کرنے کی مجاز ہے لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے کے باعث کچھ معاملات میں اجازت درکار ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجوزہ قانون سازی میں گلگت بلتستان کے چیف جج اور دیگر ججز کی پنشن کو قانون میں شامل کرنے کی تجویز ہے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ گلگت بلتستان اسمبلی کے ارکان کی مدت 5 سال مقرر کرنے کی بھی تجویز زیر غور ہے۔ اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے سوال اٹھایا کہ قانون سازی کے پروپوزل کی تفصیلات کیا ہیں۔
جسٹس روزی خان نے ریمارکس دیے کہ یہ ایک سیاسی معاملہ ہے جسے حکومت کو خود حل کرنا چاہیے۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ کی بحث عدالت میں لائی گئی تو نیا پنڈورا باکس کھل جائے گا اور تمام فریقین کو نوٹسز دینا ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیے: کراچی: ایف آئی اے کی بڑی کارروائیاں، انسانی اسمگلنگ سے متاثرہ خاتون ریسکیو، متعدد مسافر آف لوڈ
جسٹس کے کے آغا نے ریمارکس دیے کہ لگتا ہے حکومت کو بہت جلدی ہے، عام طور پر اس نوعیت کے معاملات میں اتنی سرعت نہیں دکھائی جاتی۔ بعد ازاں 3 رکنی بینچ نے کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی۔













