پاکستان کی فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے سب سے زیادہ مطلوبہ مجرموں کی شناخت کے لیے مصنوعی ذہانت اے آئی پر مبنی جدید نظام متعارف کرایا ہے، جو مشتبہ افراد کے تازہ چہرے کی تصاویر تیار کر کے انہیں حقیقی وقت میں ٹریک کرنے کے قابل ہے۔
ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور کے مطابق یہ اپ گریڈ شدہ نظام مجرموں کے لیے صرف اپنا روپ بدل کر بچ نکلنا ’ناممکن‘ بنا دے گا۔ نئے نظام کے تحت پرانی تصاویر سے موجودہ چہرے تخلیق کیے جا سکتے ہیں جس میں عمر بڑھنے، بالوں کے جھڑنے یا داڑھی وغیرہ کی تبدیلیاں بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کا استعمال کیوں کیا؟ نیویارک ٹائمز نے صحافی کو برخاست کردیا
ایف آئی اے کی آن لائن ’ریڈ بک‘ میں مطلوبہ افراد کے مکمل پروفائلز شامل ہوں گے جن میں خاندان کے افراد، ساتھی، شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کی تفصیلات، فون نمبر، شناختی نشان، بینک اکاؤنٹس، ایف آئی آر ریکارڈز اور عدالتی کارروائی کی صورتحال موجود ہوگی۔
انسداد انسانی اسمگلنگ کے اقدامات کے تحت ڈیٹا بیس میں اسمگلرز کے طریقہ کار، آپریشنل علاقے، راستے اور آخری معلوم مقامات کی تفصیلات بھی شامل کی گئی ہیں۔ فی الحال 143 انسانی اسمگلرز اس فہرست میں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ماہرین کا گوگل پر زور: بچوں کے لیے یوٹیوب پر اے آئی ویڈیوز بند کریں
ڈاکٹر انور نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اپنانا ایف آئی اے کی اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہے۔ اس کے تحت تحقیقات، معائنہ، جوابدہی کے نظام اور انسانی وسائل کے عمل کو ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے تاکہ شفافیت، کارکردگی اور محکموں کے درمیان رابطہ بہتر بنایا جا سکے۔
سابق ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ثنا اللہ عباسی نے کہا کہ عالمی سطح پر مالی فراڈ میں اضافہ ہوا ہے، اور روایتی طریقے اس کے خلاف ناکافی ہیں۔ اے آئی سسٹمز بڑی مقدار میں ڈیٹا کا تجزیہ کر کے فراڈ کے پیچیدہ نیٹ ورکس کا پتہ لگا سکتے ہیں اور پیش گوئی کے ذریعے اسے روک سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: انسانی جذبات کو سمجھنے والی اے آئی، مگر کیا اس پر اعتماد کیا جا سکتا ہے؟
انہوں نے کہا کہ جدید اسکیمیں اکثر مصنوعی شناخت، آٹومیشن اور فشنگ پر مبنی ہوتی ہیں جسے دستی طریقے سے پکڑنا مشکل ہے لیکن اے آئی سسٹمز متعدد ڈیٹا ذرائع یکجا کر کے مؤثر شناخت ممکن بناتے ہیں۔
انہوں نے ڈیٹا پرائیویسی، غیر متوازن ڈیٹا اور اے آئی ماڈلز کی بلیک باکس نوعیت جیسے چیلنجز کا بھی ذکر کیا اور ہائبرڈ اپروچ، مضبوط انکرپشن اور explainable AI کے اطلاق پر زور دیا۔
ڈاکٹر عباسی کے مطابق اے آئی کی مدد سے ادارے بدلتے ہوئے خطرات سے آگے رہ سکتے ہیں اور ڈیجیٹل معیشت میں اعتماد اور تعمیل کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔














