پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی بورڈ نے مراد سعید کی نااہلی کے بعد سینیٹ کی خالی نشست پر پشاور سے تعلق رکھنے والے پارٹی ورکر عرفان سلیم کو امیدوار نامزد کر دیا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی سربراہی میں پارلیمانی بورڈ کا اجلاس گزشتہ روز ہوا، جس کے بعد صوبائی جنرل سیکریٹری علی اصغر خان نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں علیحدگی کی تحریک کا بیج بورہے ہیں، خواجہ آصف
پی ٹی آئی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق خیبر پختونخوا سے سینیٹ کی خالی نشست پر عرفان سلیم پارٹی کے امیدوار ہوں گے۔
پارلیمانی بورڈ کے فیصلے کے بعد عرفان سلیم کی نامزدگی کو پی ٹی آئی ورکرز کی جیت قرار دیا جا رہا ہے، جس پر اس سے قبل پارٹی کے اندر کافی اختلافات پائے جاتے تھے۔
‘پارٹی ٹکٹ ورکر کے بجائے اے ٹی ایم کو دیا جا رہا تھا’
سینیٹ کی خالی نشست کے لیے امیدوار کی نامزدگی پر پاکستان تحریک انصاف میں شدید اندرونی اختلافات موجود تھے، جبکہ پشاور سے تعلق رکھنے والے اراکین بھی مبینہ طور پر ٹکٹ کی فروخت کی کھل کر مخالفت کر رہے تھے۔
پارٹی کے ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سینیٹ ٹکٹ کا اختیار وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے پاس تھا اور ان کی اور ان کے قریبی حلقوں کی کوشش تھی کہ ٹکٹ ڈی آئی خان کے ایک کاروباری شخصیت کو دیا جائے، جسے پارٹی ورکرز ’اے ٹی ایم‘ کہتے ہیں۔
سینیٹ میں مراد سعید کی خالی نشست پر پی ٹی آئی کے پارلیمانی بورڈ نے عرفان سلیم کو نامزد کر دیا۔ pic.twitter.com/b8mdZHUTq7
— Muhammad Zeeshan Awan (@surrakimuhammad) April 6, 2026
انہوں نے مزید بتایا کہ ٹکٹ کے معاملے پر سخت اختلافات تھے اور ورکرز عرفان سلیم کے ساتھ کھڑے تھے۔
پارٹی رہنما کے مطابق، پچھلی بار بھی عمران خان کے سامنے عرفان سلیم کا نام فائنل کیا گیا تھا، لیکن اس وقت کے وزیراعلیٰ علی امین نے ان کی جگہ ضلع خیبر کے ایک بڑے سرمایہ دار کو ٹکٹ دے دیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس بار مراد سعید کی نااہلی کے بعد خالی نشست پر ’اے ٹی ایم‘ کو ٹکٹ دینے کی مکمل تیاری ہو رہی تھی، تاہم ورکرز اور اہم قیادت کھل کر سامنے آ گئی۔
مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا کی دستک ایپ نے ایشیا پیسیفک آئی سی ٹی الائنس ایوارڈ 2025 جیت لیا
پشاور سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی ارباب شیر علی نے بھی کھل کر اس کی مخالفت کی۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر دھمکی دی کہ اگر ٹکٹ کسی ورکر کو نہ دیا گیا تو وہ میڈیا پر آ کر پارٹی اختلافات پر کھل کر بات کریں گے، حالانکہ وہ عموماً ایسا نہیں کرتے۔
ان کا مؤقف تھا کہ سینیٹ ٹکٹ ورکر کا حق ہے اور یہ ورکر کو ہی ملنا چاہیے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کا کون سا لیڈر کہاں روپوش ہے؟
پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات اکرام کٹھانہ نے عرفان سلیم کی نامزدگی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک مضبوط، نظریاتی اور متحرک سیاسی کارکن ہیں۔
ان کے مطابق، عرفان سلیم کی نامزدگی پارٹی کارکنان کے اعتماد کا مظہر ہے۔ قیادت نے میرٹ اور کارکردگی کی بنیاد پر فیصلہ کیا ہے۔
عرفان سلیم کی نامزدگی: کیا اختلافات ختم ہو گئے؟
مراد سعید کی نااہلی کے بعد خالی نشست پر امیدوار کی نامزدگی کے معاملے پر پی ٹی آئی میں اختلافات اور گروپنگ کھل کر سامنے آ گئی۔
پارٹی قیادت کی کوشش تھی کہ ٹکٹ کسی سرمایہ دار کو دیا جائے، جبکہ پارٹی کے اندر مختلف گروپس اس کے خلاف تھے۔
مزید پڑھیں: بانی پی ٹی آئی عمران خان سے پوچھے بغیر کوئی کام نہیں کروں گا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی
سیاسی تجزیہ کار عارف حیات کے مطابق عمران خان سے براہِ راست رابطہ محدود ہونے کے بعد پارٹی میں فیصلہ سازی کا فقدان پیدا ہو گیا اور ہر گروپ اپنے امیدوار کو آگے لانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کے بقول، پی ٹی آئی ایک یا دو نہیں بلکہ کئی گروپس میں تقسیم ہے، اور ہر کوئی چاہتا ہے کہ عہدہ اسے ملے، جبکہ ورکرز کسی کی بات ماننے کو تیار نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ سینیٹ ٹکٹ عرفان سلیم کو مل گیا ہے، تاہم اس کے باوجود اختلافات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں، کیونکہ کئی اہم شخصیات اس نشست پر نظر رکھے ہوئے تھیں۔













