پاکستان مسلم لیگ (ن) کی تنظیم میں اہم تبدیلیاں متوقع ہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے مشیر اور مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثنااللہ کو پارٹی کا مرکزی سیکریٹری جنرل بنائے جانے کا امکان ہے۔ اس تبدیلی کے ساتھ ہی حمزہ شہباز شریف کو بھی پنجاب کا نیا صدر بنائے جانے کا امکان ہے۔
پارٹی ذرائع نے بتایا کہ مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف اس حوالے سے سنجیدگی سے غور کررہے ہیں۔ اگر حمزہ شہباز شریف کو مسلم لیگ ن پنجاب کا صدر بنایا گیا تو رانا ثنااللہ کو پارٹی کا مرکزی سیکریٹری جنرل بنایا جائے گا۔
مزید پڑھیں: مسلم لیگ ن میں فیصلوں کا حتمی اختیار نواز شریف کے پاس ہے، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ
پارٹی کی تنظیم میں تبدیلیاں کرتے ہوئے موجودہ مرکزی سیکریٹری جنرل احسن اقبال سے یہ ذمہ داری واپس لے لی جائے گی۔ احسن اقبال کے قریبی ذرائع کے مطابق پارٹی کا جو بھی فیصلہ ہوگا وہ اس پر عمل کرنے کے لیے تیار ہیں۔
نواز شریف چاہتے ہیں کہ احسن اقبال اپنی وزارت اور جاری منصوبوں پر مکمل توجہ دیں، جبکہ رانا ثنااللہ کو مرکزی سطح پر ذمہ داریاں سونپی جائیں۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ رانا ثنااللہ نے پہلے پنجاب میں اپنا لوہا منوایا اور اب وہ مرکز میں پارٹی کی قیادت سنبھالنے جا رہے ہیں۔
رانا ثنااللہ نے پارٹی میں مقام کیسے بنایا؟
رانا ثنااللہ 1993 میں مسلم لیگ ن میں شامل ہوئے تھے۔ اس سے قبل 1990 میں انہوں نے فیصل آباد سے پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور جیت بھی گئے۔
تاہم 1993 میں بینظیر بھٹو شہید نے انہیں ٹکٹ نہ دیا تو وہ ن لیگ میں شامل ہوگئے۔
ن لیگ میں شامل ہونے کے بعد رانا ثنااللہ نے پارٹی سے وفاداری کا ثبوت دیا۔ وہ ن لیگ کے ٹکٹ پر 4 بار صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 2018 میں پہلی بار قومی اسمبلی کے رکن بنے اور 2025 میں پہلی بار سینیٹر بھی منتخب ہوئے۔
رانا ثنااللہ نے وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ 10 سال پنجاب میں کام کیا۔ انہیں پنجاب میں بطور وزیر قانون مضبوط اور فعال وزیر کے طور پر جانا جاتا تھا۔
2019 میں منشیات کے ایک کیس میں ان کی گرفتاری ہوئی تھی، مگر اسی دوران پارٹی نے انہیں مسلم لیگ ن پنجاب کا صدر بنا دیا، اور گرفتاری کے باوجود ان کی پارٹی میں اہمیت کم نہیں ہوئی۔
رانا ثنااللہ نواز شریف، شہباز شریف اور پارٹی کی سینیئر نائب صدر و چیف آرگنائزر مریم نواز کے بہت قریب سمجھے جاتے ہیں۔
پارٹی ذرائع کے مطابق انہوں نے کبھی پارٹی کی اندرونی سیاست میں مداخلت نہیں کی۔ جب میاں نواز شریف نے انہیں پنجاب کا صدر بنایا تو انہوں نے فوراً ذمہ داری قبول کرلی تھی۔
حمزہ شہباز کی خواہش اور پارٹی کی تیاریاں؟
پارٹی ذرائع کے مطابق حمزہ شہباز شریف نے میاں نواز شریف تک براہ راست پیغام پہنچایا ہے کہ وہ پنجاب میں فعال سیاسی کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔
ان کے قریبی ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے کہ اگر نواز شریف انہیں پنجاب کا صدر بنانے کا فیصلہ کرتے ہیں تو حمزہ شہباز اس ذمہ داری کو قبول کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ اور پارٹی کے اندر یہ بڑی تبدیلی سمجھی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ 2024 میں جب میاں نواز شریف دوبارہ پارٹی صدر منتخب ہوئے تو خواجہ سعد رفیق کو سیکریٹری جنرل بنانے کی خبریں گردش کر رہی تھیں، مگر سعد رفیق نے یہ عہدہ قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
اس سے قبل جب رانا ثنااللہ کو پہلی بار مسلم لیگ ن پنجاب کا صدر بنایا جا رہا تھا تو خواجہ سعد رفیق نے بھی پنجاب کا صدر بننے کی خواہش ظاہر کی تھی، تاہم نواز شریف اور مریم نواز نے رانا ثنااللہ کو ہی ترجیح دی۔
پارٹی ذرائع کے مطابق رانا ثنااللہ کی کارکردگی اور قیادت پر مکمل اعتماد ہے۔ وہ پنجاب میں اپنی مضبوط پوزیشن کے بعد اب مرکزی سیکریٹری جنرل کے عہدے کے لیے تیار ہیں۔
ذرائع کے مطابق حالیہ جو عالمی سطح پر گشیدگی نظر آرہی ہے اس میں جب بہتری آجائے گی، تو اس کے بعد مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف اس حوالے سے پارٹی اجلاس بلائیں گے اور اس میں پارٹی کے اندر متوقع تبدیلیوں کا فیصلہ کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: مسلم لیگ (ن) اپنے ایم پی ایز اور ایم این ایز سے ہر ماہ کتنی رقم وصول کرتی ہے؟
ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی حمزہ شہباز شریف اپنے حلقہ این اے 118 میں ایک آڈٹ کروانے جا رہے ہیں کہ 2024 میں وہ عالیہ حمزہ سے صرف 4 ہزار کی لیڈ سے کیسے جیتے جبکہ اس سے پہلے وہ اپنے حلقے سے 40 سے 50 ہزار کی لیڈ سے میدان مارتے رہے ہیں۔













