پاکستان تحریک انصاف کے رہنما، کارکنان اور عمران خان کی بہنیں ہر منگل اور جمعرات کو پارٹی کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل کا رخ کرتے ہیں اور ملاقات نہ ہونے پر نہ صرف احتجاج کیا جاتا ہے بلکہ دھرنا بھی دیا جاتا ہے، جس سے علاقہ مکین و دکاندار خاصے پریشان ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی نے اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری شروع کر دی؟
واضح رہے کہ منگل کو فیملی جبکہ جمعرات کو سیاسی ملاقاتوں کا دن ہوتا ہے اور ملاقات نہ ہونے کے باعث عمران خان کی بہنیں، پارٹی رہنما اور کارکنان اڈیالہ جیل کے قریب احتجاج کرتے ہیں۔ احتجاج کے باعث پولیس اڈیالہ جیل کے اطراف کی سڑکوں اور مارکیٹوں کو جزوی طور پر بند کر دیتی ہے جس سے علاقہ مکینوں کو مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اڈیالہ جیل کے اطراف موجود دکانداروں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے دھرنے کے باعث پولیس اڈیالہ روڈ کا راستہ بند کر دیتی ہے جس کے باعث ہمیں اپنے گھروں کو پہنچنے کے لیے بہت مشکل اور طویل راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔
دکاندار کہتے ہیں کہ پولیس والے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سیکیورٹی خدشات ہیں لہٰذا دکانیں بند کر دی جائیں جس سے ہمارا کاروبار بھی بہت متاثر ہوتا ہے۔
دکانداروں نے کہا کہ پی ٹی آئی کارکنان اور ان کی قیادت نے بھی ایک تماشا کھڑا کیا ہوا ہے اور ہر منگل اور جمعرات کو یہاں آ کر بیٹھ جاتے ہیں۔
مزید پڑھیے: ایسے انقلاب نہیں آتے، پی ٹی آئی ہمدردی کا کارڈ کھیل رہی ہے، طلال چوہدری
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والوں کے آنے کا کوئی مقصد واضح نہیں ہو رہا اور سمجھ میں نہیں آتا کہ جب ان کو ملاقات کی اجازت ہی نہیں ملتی تو پھر یہاں پہنچ کیوں جاتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ معاملہ خواہ جو بھی ہو کم ازم دکانداروں کو تنگ نہ کیا جائے۔
دکانداروں نے کہا کہ لوگ وہاں محض دکھاوا کرنے اور ویڈیوز بنانے کے لیے آجاتے ہیں تاکہ سوشل میڈیا پر دوسروں کو دکھا سکیں کہ ہمارا قائد یہاں قید ہے اور ہم یہاں پہنچے ہیں۔ ان کے مطابق یہاں آ کر بھی کارکنان زیادہ دور کھڑے ہو کر نعرے لگاتے اور واپس چلے جاتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’اگر میرا باپ مرگیا تو پی ٹی آئی کو معاف نہیں کروں گا‘، سڑکیں بند ہونے کے سبب نوجوان غصے سے بے قابو
انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی کے کارکنان آتے بھی ہیں تو انہیں یہاں آ کر دھرنا دے کر سڑک بلاک نہیں کرنی چاہیے۔












