افغانستان میں برسرِ اقتدار طالبان منشیات کے کاروبار اور پراکسی نیٹ ورکس پر انحصار کر رہے ہیں، جس سے خطے کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسداد منشیات و جرائم (United Nations Office on Drugs and Crime) نے اپنی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ افغانستان سے جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیں: طالبان کے بیانات شواہد کے منافی اور عالمی اداروں کی ساکھ کے خلاف ہیں، پاکستان
رپورٹ کے مطابق افغانستان سے میتھا مفیٹامین جیسی خطرناک مصنوعی منشیات کی اسمگلنگ میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ 2023 کے مقابلے میں خطے میں اس منشیات کی ضبطگی 50 فیصد سے زائد رہی، جو اس کی بڑھتی پیداوار کا ثبوت ہے۔
طالبان کے زیرِ کنٹرول افغانستان میں منشیات، دہشتگردی اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس کا گٹھ جوڑ خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے، جبکہ منشیات سے حاصل ہونے والی آمدن دہشتگرد سرگرمیوں کو تقویت دے رہی ہے، اقوام متحدہ@awaisReporter @abbasnasir59 @Hussainch242 #Afghanistan pic.twitter.com/f5Vn1QkHEh
— Media Talk (@mediatalk922) April 7, 2026
مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان میں منظم جرائم پیشہ گروہوں نے مصنوعی منشیات کو باقاعدہ کاروباری ماڈل بنا لیا ہے، جس سے غیر قانونی معیشت کو تقویت مل رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی نائب خصوصی نمائندہ نے کہا کہ افغانستان کا منشیات کا مسئلہ صرف مقامی نہیں بلکہ اس کے اثرات دیگر ممالک تک بھی پھیل رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:افغان طالبان عام شہریوں کو بطور ہیومن شیلڈ استعمال کر رہے ہیں، خواجہ محمد آصف
ماہرین کے مطابق طالبان کے زیرِ کنٹرول افغانستان میں منشیات، دہشتگردی اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس کا گٹھ جوڑ خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے، جبکہ منشیات سے حاصل ہونے والی آمدن دہشتگرد سرگرمیوں کو تقویت دے رہی ہے۔













