بیجنگ میں ایک خاتون نے اپنے پالتو کتے کو زہر دے کر قتل کرنے والے پڑوسی کے خلاف عدالتی کارروائی کر کے تاریخی کامیابی حاصل کی ہے۔ لی یی ہان نے گزشتہ 3 سال میں اپنی نوکری، ذاتی زندگی اور سماجی مصروفیات قربان کر کے جانوروں کے حقوق کے لیے لڑائی لڑی۔
لی یی ہان کے 13 سالہ پالتو کتے پاپی کو 2022 میں زہر دے کر مار دیا گیا تھا۔ پولیس نے پڑوسی 65 سالہ ژانگ کو اس جرم میں ملزم قرار دیا جس نے کھیل کے میدان میں زہر آلود چکن کے ٹکڑے رکھے تھے۔ اس زہر کی نوعیت سوڈیم فلورواسٹیس تھی جو انتہائی زہریلا اور انسانی صحت کے لیے بھی خطرناک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مخمل سازوں کا صدیوں پرانا راز، آن لائن فروخت سے بے نقاب
اسی دن علاقے میں کل 11 پالتو کتوں کو زہر دیا گیا جن میں سے نو کی موت واقع ہوئی۔ چین میں جانوروں کے تحفظ کا قانون نہ ہونے کے باوجود لی یی ہان نے سول کوڈ اور فوجداری قانون کا مطالعہ کر کے ژانگ کے خلاف نجی فوجداری کارروائی اور سول مقدمہ دائر کیا۔ انہوں نے دیگر 10 متاثرین کی بھی خود نمائندگی کی، کیونکہ 11 وکیلوں کے اخراجات پورے کرنا مشکل تھا۔
پہلی سماعت میں ان کی کامیابی کے بعد، دسمبر 2025 میں ژانگ کو خطرناک مواد رکھنے کے جرم میں چار سال قید کی سزا سنائی گئی۔ لی یی ہان کے مطابق یہ سزا پالتو جانوروں کے قتل کے مقدمات میں ممکنہ سب سے زیادہ سزا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: معدومیت کے 6 کروڑ 50 لاکھ سال بعد لوگ ڈائنوسارز کا سوگ کیوں منا رہے ہیں؟
فیصلے کے انتظار کے دوران، ژانگ ایک سال تک ضمانت پر رہا، جس سے لی یی ہان کو شدید ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران انہیں دھمکیاں اور افواہیں پھیلانے جیسے مشکلات کا سامنا رہا جن میں سے بعض افراد کو جرمانے بھی کیے گئے۔ لی یی ہان نے پہلی بار عوامی طور پر اپنا چہرہ دکھایا اور کہا ہر چھوٹا قدم جو ہم اٹھاتے ہیں بہتر مستقبل کی بنیاد رکھتا ہے۔
لی یی ہان کی یہ کامیابی نہ صرف ان کے پالتو کتے کے لیے انصاف کی علامت بنی بلکہ دیگر پالتو جانوروں کے حقوق کے مقدمات میں بھی ایک مثال قائم کی ہے۔














