معدومیت کے 6 کروڑ 50 لاکھ سال بعد لوگ ڈائنوسارز کا سوگ کیوں منا رہے ہیں؟

پیر 6 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا بھر میں سوشل میڈیا صارفین ان مخلوقات کے لیے سوگ منا رہے ہیں جو تقریباً 6 کروڑ 50 لاکھ سال قبل معدوم ہو چکی ہیں۔ حالیہ دنوں میں دی ڈائنوسارز نامی نیٹ فلکس سیریز نے ناظرین کو اس قدر متاثر کیا کہ لوگ ڈائنوسارز کی زندگی اور ان کے انجام پر افسردہ ویڈیوز شیئر کر رہے ہیں۔

صارفین ننھے ڈائنوسارز یا بڑے جانداروں کی اینی میٹڈ ویڈیوز کو جذباتی موسیقی کے ساتھ شیئر کرتے ہوئے لکھ رہے ہیں کہ ‘یہ دنیا ان کی تھی’۔ کئی افراد نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ وہ ایسی مخلوق کے لیے کیوں اداس ہیں جسے انہوں نے کبھی دیکھا ہی نہیں۔

یہ بھی پڑھیے: بولیویا میں ڈائنوسار کے قدموں کے نشانات کا دنیا کا سب سے بڑا مقام دریافت

ماہرین کے مطابق انسانوں کا ڈائنوسارز سے جذباتی تعلق نیا نہیں۔ ماضی میں انہیں خوفناک مخلوق، فلمی ولن یا بچوں کے دوست کے طور پر پیش کیا جاتا رہا۔ تاہم جدید تحقیق نے اس تصور کو بدل دیا ہے کہ ڈائنوسارز سست اور کم عقل تھے۔ اب شواہد بتاتے ہیں کہ وہ متحرک، ذہین اور سماجی رویے رکھنے والے جاندار تھے۔

سائنس دانوں کے مطابق ان کی معدومی کسی کمزوری کی وجہ سے نہیں بلکہ ایک تباہ کن شہابیے کے زمین سے ٹکرانے کے باعث ہوئی، جس نے زمین کی تاریخ کا رخ بدل دیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈائنوسارز کی کہانی دراصل انسانوں کے اپنے خدشات کی عکاسی بھی کرتی ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی، قدرتی آفات اور عالمی بحرانوں کے دور میں لوگ ان مخلوقات کی تقدیر میں اپنی جھلک دیکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: راجستھان میں ڈائنوسار سے متعلق پانچویں بڑی دریافت، سائنسی تصدیق کیسے ہوگی؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈائنوسارز مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے، بلکہ آج کے پرندے انہی کی ارتقائی شکل ہیں، جو دنیا بھر میں موجود ہیں۔

ماہرین کے مطابق ڈائنوسارز کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ زمین پر زندگی کا تسلسل برقرار رہتا ہے، مگر غلبہ ہمیشہ عارضی ہوتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل: باہمی تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق

برونائی کے سلطان نے بہو سے شاہی اعزازات کیوں واپس لے لیے؟

عمران خان کو عین وقت پر شفا اسپتال کی بجائے پمز کیوں لے جایا گیا؟ طارق فضل چوہدری نے بتادیا

دنیا کے تیز ترین موٹرائزڈ لکڑی کے جوتے نے 70 میل فی گھنٹہ کی رفتار کا ریکارڈ قائم کردیا

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا

ویڈیو

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

امریکی صدر پر گانا چرانے کا الزام، گلوکارہ آریانا گرانڈے ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑیں

کالم / تجزیہ

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘

قائداعظم کی بیماری: سازشی تھیوری دم توڑ گئی