سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط اور استحقاق نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے کیبن کریو سے متعلق مبینہ بدسلوکی کے واقعے پر تھرڈ پارٹی تحقیقات کرانے کا حکم دیتے ہوئے متعلقہ عملے کو تحقیقات مکمل ہونے تک گراؤنڈ رکھنے کی ہدایت کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: مراد سعید کی خالی نشست پر نامزد سینیٹ امیدوار کون سے اہم کیس میں نامزد ہیں؟
پارلیمنٹ ہاؤس میں چیئرمین کمیٹی وقار مہدی کی زیر صدارت اجلاس میں متعدد استحقاقی تحریکوں اور انتظامی امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سینیٹر سعدیہ عباسی، بلال احمد خان مندوخیل (ویڈیو لنک کے ذریعے)، سینیٹر عطا الرحمان، سینیٹر جان محمد اور سینیٹر دوست علی جیسر نے شرکت کی۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ سینیٹر بلال مندوخیل کی جانب سے 12 فروری 2026 کو جمع کرائی گئی تحریک استحقاق میں 7 فروری کو کوئٹہ سے اسلام آباد آنے والی پی آئی اے کی پرواز PK-326 میں کیبن کریو کی رکن صائمہ رانا کی جانب سے مبینہ بدسلوکی کی نشاندہی کی گئی تھی۔
کمیٹی نے بتایا کہ 17 فروری کو جاری سفارشات میں متعلقہ کیبن کریو رکن اور پائلٹ کو گراؤنڈ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی تاہم پی آئی اے کی جانب سے ان ہدایات پر عملدرآمد نہیں کیا گیا جس پر کمیٹی نے برہمی کا اظہار کیا۔
سینیٹر بلال مندوخیل نے کہا کہ واضح ہدایات کے باوجود عملے کو ڈیوٹی جاری رکھنے کی اجازت دی گئی۔
مزید پڑھیے: ورکرز کے دباؤ پر عرفان سلیم کو سینیٹ کا ٹکٹ مل گیا، کیا پی ٹی آئی میں اختلافات ختم ہو گئے؟
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پی آئی اے نے غیر جانبدار تحقیقات کے بجائے داخلی انکوائری پر انحصار کیا اور انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ معاملہ خوش اسلوبی سے حل کرنے کی متعدد کوششوں کے باوجود کوئی خاطر خواہ جواب سامنے نہیں آیا۔
سینیٹر بلال مندوخیل نے مزید کہا کہ انہیں بطور مسافر ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا اور سوال اٹھایا کہ کس بنیاد پر جہاز کا دروازہ بند کیا گیا، مسافروں کو اترنے سے روکا گیا اور ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس (اے ایس ایف) کو طلب کیا گیا جبکہ کوئی غیر قانونی عمل سرزد نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایک سینیٹر کے ساتھ ایسا سلوک ہو سکتا ہے تو عام مسافروں کے لیے صورتحال مزید تشویشناک ہو سکتی ہے۔
کمیٹی کے چیئرمین وقار مہدی نے ہدایت کی کہ وزارت دفاع کے ذریعے تیسرے فریق سے شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔
سینیٹر مندوخیل نے متعلقہ کیبن کریو رکن اور پائلٹ کو ملازمت سے برطرف کرنے کی سفارش بھی کی تاہم کمیٹی نے اجتماعی طور پر پہلے غیر جانبدار انکوائری کرانے کا فیصلہ کیا۔
مزید پڑھیں: سینیٹ کمیٹی نے خواتین کے لیے عام نشستوں کا کوٹہ بڑھانے کی مجوزہ ترمیم کیوں مسترد کردی؟
اجلاس میں دیگر استحقاقی معاملات پر بھی غور کیا گیا۔ سینیٹر عطا الرحمان نے سینیٹ سیکریٹریٹ کے سیکیورٹی عملے کے رویے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ بارش کے دوران انہیں گیٹ نمبر 5 سے داخلے کی اجازت نہیں دی گئی جبکہ ایک اور سینیٹر کی گاڑی کو بغیر رکاوٹ گزرنے دیا گیا۔
کمیٹی نے معاملہ متعلقہ فورم کو بھیجتے ہوئے اس کا تفصیلی جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔
ایک اور معاملے میں چیئرمین کمیٹی وقار مہدی نے ذاتی نوعیت کی استحقاقی تحریک پر صدارت سے معذرت کرتے ہوئے سینیٹر سعدیہ عباسی کو اجلاس کی صدارت سونپ دی۔ یہ معاملہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکریٹری بیرسٹر نبیل احمد اعوان کے مبینہ رویے سے متعلق تھا۔
کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے باضابطہ جواب اور معذرت نامہ جمع کرا دیا ہے جس میں سینیٹر وقار مہدی کے پیغامات کا بروقت جواب نہ دینے پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔ جواب میں کہا گیا کہ یہ کوتاہی غیر ارادی تھی اور مصروفیات کے باعث رابطہ ممکن نہ ہو سکا۔ کمیٹی نے معذرت قبول کرتے ہوئے معاملہ نمٹا دیا۔
علیم خان کے خلاف شکایت پر وزیر اعظم کو خط لکھنے کا فیصلہ
اجلاس میں سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان کی جانب سے وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کے خلاف بدسلوکی کے الزامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزیر کی جانب سے تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا جس پر کمیٹی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم کے دفتر کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا۔
گمشدہ فائل کا معاملہ مؤخر
کمیٹی نے اسلام آباد میں مکان نمبر 622 سے متعلق گمشدہ فائل کے کیس پر بھی غور کیا۔
یہ بھی پڑھیے: مراد سعید کی نااہلی: پی ٹی آئی نے سینیٹ ضمنی الیکشن میں ٹکٹ جاری کرنے کے لیے پارلیمانی بورڈ تشکیل دیدیا
کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی حکام کے مطابق معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور فیصلہ محفوظ کیا جا چکا ہے۔ اس پر چیئرمین کمیٹی نے کیس کو مؤخر کرتے ہوئے ہدایت کی کہ عدالتی فیصلے کے بعد اسے دوبارہ کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے جبکہ اس معاملے کو سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ کو بھی بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا۔













