مراد سعید کی خالی نشست پر نامزد سینیٹ امیدوار کون سے اہم کیس میں نامزد ہیں؟

منگل 7 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی بورڈ نے مراد سعید کی نااہلی کے بعد خالی نشست پر پارٹی کے دیرینہ کارکن عرفان سلیم کو امیدوار نامزد کر دیا ہے، جو 9 مئی ریڈیو پاکستان کیس میں نامزد ہیں۔

9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ اور توڑ پھوڑ کیس اس وقت پشاور کی انسدادِ دہشتگردی عدالت نمبر III میں زیرِ سماعت ہے۔ اس میں نادرا اور پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی رپورٹ کی بنیاد پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، سینیٹ کے نامزد امیدوار عرفان سلیم سمیت دیگر پانچ رہنماؤں کو نامزد کیا گیا ہے، جبکہ پی ٹی آئی کے کئی رہنما اور موجودہ کابینہ کے اراکین پہلے ہی اس کیس میں شامل ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف نے ایسے وقت میں عرفان سلیم کو سینیٹ امیدوار نامزد کیا ہے جب وہ وزیراعلیٰ کے ساتھ ریڈیو پاکستان کیس میں نامزد ہیں اور کیس کی سماعت میں تیزی بھی دیکھنے میں آئی ہے۔ ساتھ ہی ریڈیو پاکستان کیس کو پشاور سے اسلام آباد منتقل کرنے کی درخواست بھی دائر کر دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے ورکرز کے دباؤ پر عرفان سلیم کو سینیٹ کا ٹکٹ مل گیا، کیا پی ٹی آئی میں اختلافات ختم ہو گئے؟

ریڈیو پاکستان نے وفاقی آئینی عدالت میں درخواست دائر کی ہے، جس میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ریڈیو پاکستان کیس، جو اس وقت پشاور کی انسدادِ دہشتگردی عدالت میں زیرِ سماعت ہے، میں وزیراعلیٰ، کابینہ اراکین سمیت بااثر افراد نامزد ہیں، جس سے کیس پر اثرانداز ہونے کا خدشہ ہے۔
ریڈیو پاکستان کی درخواست پر وفاقی آئینی عدالت نے انسدادِ دہشتگردی عدالت پشاور کو مزید سماعت سے بھی روک دیا ہے۔

ریڈیو پاکستان حملہ: ایک اہم کیس

ریڈیو پاکستان کے وکیل شبیر حسین گیگیانی کا کہنا ہے کہ ریڈیو پاکستان حملہ کیس ایک اہم مقدمہ ہے، جس میں نادرا اور فرانزک رپورٹس میں ملزمان کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے، اور انہی رپورٹس کی روشنی میں سہیل آفریدی، عرفان سلیم، سابق وزیر کامران بنگش، تیمور جھگڑا اور ایک ورکر کو نامزد کیا گیا ہے۔
ان کے مطابق پولیس کی جانب سے فراہم کردہ ویڈیوز میں بھی ان ملزمان کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ اب کیس کی سماعت میں بھی تیزی آ رہی ہے۔

وکیل شبیر حسین گیگیانی کے مطابق کیس میں شواہد مضبوط ہیں اور ان ملزمان کو سزا ہو سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کسی بھی کیس میں سزا یافتہ شخص کسی بھی عہدے کے لیے نااہل ہو جاتا ہے، اور اگر ریڈیو پاکستان کیس میں سزا ہوتی ہے تو اس میں نامزد کابینہ اراکین اور دیگر افراد نااہل ہو سکتے ہیں۔

عثمان دانش کورٹ رپورٹر ہیں۔ ان کے مطابق کئی سال بعد ریڈیو پاکستان کیس کی سماعت باقاعدہ شروع ہوئی ہے، جبکہ نادرا اور فرانزک رپورٹ آنے کے بعد کیس مزید مضبوط ہو گیا ہے۔
’صوبائی پولیس نے اپنے ہی وزیراعلیٰ کو کیس میں نامزد کیا ہے اور اس سے اس کیس کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے ’عرفان سلیم کے کاغذات نامزدگی واپس نہیں ہوں گے‘، پی ٹی آئی کے ضلعی عہدیداران ڈٹ گئے

عثمان دانش نے بتایا کہ ریڈیو پاکستان، وزیراعلیٰ کی نامزدگی کے بعد، اس کیس کو اسلام آباد منتقل کرنے کا خواہاں ہے تاکہ سیاسی دباؤ کے بغیر جلد سماعت مکمل ہونا یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کو اندازہ ہے کہ عرفان سلیم ریڈیو پاکستان کیس میں نامزد ہیں اور کسی بھی عہدے سے نااہل ہونے کی تلوار ان پر لٹک رہی ہے۔
’اگر دیکھا جائے تو یہ بھی ورکرز کو خوش کرنے کی ایک حکمت عملی ہو سکتی ہے۔ اگر وہ نااہل ہو گئے تو ٹکٹ دوبارہ کسی سرمایہ دار کو ہی دیا جائے گا۔‘

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کا مؤقف ہے کہ عرفان سلیم پارٹی کے دیرینہ ورکر ہیں اور ٹکٹ ان کا حق تھا، جو ورکرز کے مطالبے پر ہی پارلیمانی بورڈ نے انہیں نامزد کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp