پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت اس وقت ایک تاریخی سنگ میل پر کھڑی ہے۔ جہاں عالمی سطح پر جغرافیائی و سیاسی تنازعات نے روایتی تجارت اور سپلائی چین کو شدید متاثر کیا ہے وہیں پاکستان کا آئی ٹی سیکٹر اور فری لانسرز اپنی ڈیجیٹل ریزیلیئنس کے ذریعے نہ صرف قائم و دائم رہنے میں کامیاب رہے ہیں بلکہ حیران کن رفتار سے ریکارڈ ترقی بھی حاصل کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فری لانسنگ میں پاکستان کا دنیا میں کونسا نمبر ہے، وزیر خزانہ نے بتادیا
پائنیر، آکسفورڈ انٹرنیٹ انسٹیٹیوٹ، ورلڈ بنک اور اپ ورک کی تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان دنیا بھر میں فری لانسرز کی چوتھی بڑی افرادی قوت بن چکا ہے۔
پاکستان میں 23 لاکھ فری لانسرز موجود
ملک میں اس وقت 23 لاکھ سے زائد فعال فری لانسرز موجود ہیں جو سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، گرافک ڈیزائننگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور اب مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی جیسے شعبوں میں اپنی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔
برآمدات میں نمایاں اضافہ اور معاشی اثرات
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے حالیہ اعدادوشمار کے مطابق، مالی سال 26-2025 کے پہلے شش ماہی میں آئی ٹی برآمدات 2.24 ارب ڈالر تک جا پہنچی ہیں جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
آئی ٹی کی ماہانہ برآمدات 400 سے 450 ملین ڈالر کے درمیان مستحکم ہو رہی ہیں جس سے رواں مالی سال کے اختتام تک 5 ارب ڈالر کا ہدف حاصل کرنا ممکن نظر آتا ہے۔
بیک آفس سے ہائی ٹیک ہب تک کا سفر
گلوبل فری لانسرز یونین کے اعزازی صدر طفیل احمد خان کے مطابق اب دنیا پاکستان کو صرف سستے کام کے لیے نہیں دیکھتی۔
مزید پڑھیے: 5 جی اسپیکٹرم نیلامی مکمل: ٹیکنالوجی کا یہ نیا میدان پاکستان کے لیے کونسے مواقع پیدا کر سکتا ہے؟
انہوں نے کہا کہ پاکستانی پیشہ ور افراد اب اے آئی کلاؤڈ آرکیٹیکچر، اور سائبر سیکیورٹی جیسے پیچیدہ اور مہنگے منصوبوں کی قیادت کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک اسٹرکچرل شفٹ ہے جہاں کلائنٹس پاکستانیوں کی تکنیکی مہارت پر بھروسہ کر رہے ہیں۔
ترقی کی وجوہات
طفیل احمد خان کے مطابق پاکستان کی اس کامیابی کے پیچھے وجوہات یہ ہیں کہ روایتی برآمدات کے برعکس، ڈیجیٹل سروسز کو بحری راستوں یا لاجسٹکس کی ضرورت نہیں ہوتی جس کی وجہ سے علاقائی جنگ یا تنازعات ان کی ترسیل میں رکاوٹ نہیں بنتے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی نوجوان اور ماہر افرادی قوت امریکا کے لیے ایک اسٹریٹجک اثاثہط
ان کا کہنا تھا کہ ڈیجی اسکلز جیسے پروگرامز کے ذریعے لاکھوں نوجوانوں کو تربیت دی جا رہی ہے۔
فری لانس انڈسٹری میں مزید بہتری کی گنجائش
آئی ٹی ایکسپرٹ فرحان اقبال کے مطابق فری لانس فیسلیٹیشن پورٹل اور بینکنگ چینلز کی بہتری نے ترسیلاتِ زر کی وصولی کو آسان بنا دیا ہے۔
فرحان اقبال نے کہا کہ پاکستان کی 60 فیصد سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جو عالمی مارکیٹ میں تیزی سے اپنی جگہ بنا رہے ہیں تاہم اس رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے ڈیجیٹل اکانومی کے لیے بلا تعطل انٹرنیٹ بنیادی ضرورت ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ عالمی ادائیگیوں کے نظام جیسے پے پال وغیرہ تک براہ راست رسائی نا ملنا اب بھی ایک رکاوٹ ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر نے برآمدات میں نئی تاریخ رقم کر دی
فرحان اقبال کہتے ہیں کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی آمد سے سادہ کام جیسے ڈیٹا انٹری یا عام گرافکس متاثر ہو رہے ہیں لہٰذا فری لانسرز کو اب پرامپٹ انجینیئرنگ اور ورک فلو ڈیزائن جیسے جدید اسکلز سیکھنے کی ضرورت ہے۔












