پاکستان کے آئی ٹی اور آئی ٹی سے منسلک خدمات کے شعبے نے برآمدات میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اور حوصلہ افزا پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال دسمبر میں پاکستان کی آئی ٹی برآمدات پہلی بار 437 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئیں، جو اس شعبے کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ عالمی مارکیٹ میں پاکستانی آئی ٹی سروسز، سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ اور فری لانسنگ کی بڑھتی ہوئی مانگ کا نتیجہ ہے۔
رواں مالی سال میں نمایاں اضافہ
رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 2.24 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہیں۔ اس اضافے کو آئی ٹی سیکٹر کی مسلسل ترقی اور بہتر پالیسی اقدامات کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔
معیشت کے لیے خوش آئند اشارہ
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ٹی سیکٹر ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کرنے کا ایک مستحکم ذریعہ بن چکا ہے، جبکہ اس شعبے میں ترقی سے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ فری لانسرز، سافٹ ویئر ہاؤسز اور اسٹارٹ اپس نے برآمدات بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
حکومتی اقدامات اور مستقبل کے امکانات
ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل پاکستان وژن، آئی ٹی برآمدات کے لیے مراعات، آسان ریگولیٹری فریم ورک اور عالمی مارکیٹس تک رسائی نے اس شعبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو آئندہ برسوں میں پاکستان کی آئی ٹی برآمدات مزید اضافہ کر سکتی ہیں اور ملکی معیشت کو مضبوط سہارا فراہم کریں گی۔
یہ پیش رفت اس بات کی عکاس ہے کہ آئی ٹی سیکٹر پاکستان کی معیشت کا ایک اہم ستون بنتا جا رہا ہے۔














