پاکستان میں گیس درآمدات میں اضافہ، مقامی پیداوار میں کمی کا رجحان

بدھ 8 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کے توانائی شعبے کو ایک نازک مرحلے کا سامنا ہے جہاں مقامی پیداوار میں کمی، درآمدات پر بڑھتا انحصار اور توانائی کی فراہمی میں سست رفتار اضافہ واضح ہو گیا ہے۔ یہ انکشاف پیٹرولیم ڈویژن اور ہائیڈروکاربن ڈیولپمنٹ انسٹیٹیوٹ آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ‘پاکستان انرجی ایئر بک 2024-25’ میں کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مقامی توانائی پیداوار 53 ایم ٹی او ای سے کم ہو کر 50 ایم ٹی او ای رہ گئی، جبکہ درآمدات 33 سے بڑھ کر 34 ایم ٹی او ای ہو گئیں، جو بیرونی ذرائع پر بڑھتے انحصار کی نشاندہی کرتا ہے۔ مجموعی توانائی فراہمی میں صرف 1.58 فیصد اضافہ ہوا جو 82 ایم ٹی او ای تک پہنچی، جس میں زیادہ تر حصہ ایل پی جی، تیل، کوئلہ اور درآمدی بجلی کا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: عالمی توانائی بحران مہینوں تک جاری رہ سکتا ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا انتباہ

اعداد و شمار کے مطابق ایل پی جی کی درآمدات میں 28.56 فیصد، درآمدی بجلی میں 20.11 فیصد، تیل میں 14.51 فیصد اور کوئلے میں 6.32 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ قدرتی گیس، ایل این جی، جوہری اور قابلِ تجدید توانائی میں کمی دیکھی گئی، جو مقامی دستیابی میں دباؤ کو ظاہر کرتی ہے۔

حتمی توانائی کھپت میں 8.32 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بڑی وجہ کمرشل (23.38 فیصد)، صنعتی (16.78 فیصد)، ٹرانسپورٹ (9.44 فیصد) اور سرکاری شعبوں میں اضافہ ہے، تاہم زرعی شعبے میں 30.97 فیصد کمی اور گھریلو استعمال میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، جو دیہی علاقوں میں رسائی کے مسائل کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

خام تیل کی پیداوار میں 11.44 فیصد اور گیس کی پیداوار میں 7.52 فیصد کمی آئی، جس کی بڑی وجہ پرانے ذخائر اور محدود ڈرلنگ سرگرمیاں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق صرف 30 ترقیاتی کنویں کھودے گئے۔ اگرچہ 21 نئے گیس فیلڈز دریافت ہوئے اور گیس کے ذخائر میں 26 فیصد اضافہ ہو کر 23.31 ٹریلین کیوبک فٹ ہو گیا، مگر پیداوار میں اضافہ نہ ہو سکا، جو نکالنے کی صلاحیت میں کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ تیل کے ثابت شدہ ذخائر بھی 1.39 فیصد کم ہو کر 240 ملین بیرل رہ گئے۔

توانائی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا، جس میں ریفائنڈ مصنوعات 16.61 فیصد اور خام تیل 19.44 فیصد بڑھا۔ گیس کی درآمدات 8.74 ایم ٹی او ای تک پہنچ گئیں، تاہم مجموعی گیس کھپت میں 5.77 فیصد کمی ہوئی۔ صنعتی شعبے میں گیس کا استعمال 62.5 فیصد بڑھا جبکہ دیگر شعبوں میں کمی آئی، جو زیادہ اہم شعبوں کو ترجیح دینے کی نشاندہی کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ایران جنگ کی غیر یقینی صورتحال، عالمی توانائی مارکیٹس میں ہلچل

کوئلے کی درآمدات میں 27.86 فیصد اضافہ ہوا، جو مقامی پیداوار میں 2.66 فیصد کمی کے باعث کیا گیا، اور اس کا نصف سے زیادہ حصہ بجلی کی پیداوار کے لیے استعمال ہوا۔

بجلی کے شعبے میں پیشرفت سست رہی، نصب شدہ صلاحیت معمولی اضافے کے ساتھ 45,380 میگاواٹ تک پہنچی، جس میں 884 میگاواٹ نئی پن بجلی شامل ہے، جبکہ قابلِ تجدید توانائی میں جمود برقرار رہا۔ بجلی کی پیداوار میں 3.04 فیصد اضافہ ہو کر 140,420 گیگا واٹ آور ہو گئی، جس میں زیادہ حصہ تھرمل ذرائع کا رہا اور درآمدی بجلی میں 20 فیصد اضافہ ہوا۔

مجموعی طور پر رپورٹ کے مطابق پاکستان کو بڑھتی ہوئی طلب، کم ہوتی مقامی پیداوار، درآمدات پر بڑھتے انحصار، قابلِ تجدید توانائی میں جمود اور ذخائر کے باوجود کم پیداوار جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، جو طویل مدتی توانائی پائیداری کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا اور ایران کے وفود جمعے کو پاکستان آرہے ہیں، اللہ کو منظور ہوا تو جنگ کے شعلے ہمیشہ کے لیے بجھ جائیں گے، وزیراعظم

امریکا ایران کے ساتھ قریبی تعاون کرے گا، معاہدے کے کئی نکات طے پاچکے، ڈونلڈ ٹرمپ

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

ایران جنگ بندی پر بھارت میں بھی اعتراف کیا جارہا ہے کہ پاکستان کو سفارتی سطح پر کامیابی ملی، خواجہ آصف

سرمایہ کاروں کا پاکستان اسٹاک مارکیٹ پر اعتماد، مستقبل میں کون سے ریکارڈ بن سکتے ہیں؟

ویڈیو

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی، گرین پاسپورٹ کو دنیا بھر میں عزت مل گئی

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟