سپریم کورٹ میں قتل کے 2 اہم کیسز، صلح، شواہد اور سزاؤں پر سخت سوالات

بدھ 8 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ آف پاکستان میں قتل کے 2 مختلف مگر اہم مقدمات کی سماعت کے دوران ججز نے نہ صرف شواہد اور الزامات پر کڑی جانچ کی بلکہ صلح کے قانون، سزاؤں اور معاشرتی اثرات پر بھی اہم سوالات اٹھا دیے۔ عدالت نے دونوں کیسز میں مزید کارروائی کے لیے سماعت ملتوی کر دی۔

ساس کے قتل کیس میں داماد کی اپیل

سپریم کورٹ میں ساس کو قتل کرنے والے داماد کی سزا کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی۔ دورانِ سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ نے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کے مؤکل پر کیا الزام ہے؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ ان کے مؤکل پر ساس کے قتل کا الزام ہے۔

وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم کی بیوی ناراض ہو کر اپنے والدین کے گھر بیٹھی تھی اور وہ اسے منانے گیا تھا۔ اس پر جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس دیے کہ ’بیوی کو منانے اسلحہ کے ساتھ کون جاتا ہے؟‘ جبکہ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ ’بیوی کو منانے کا یہ کون سا طریقہ ہے؟‘

یہ بھی پڑھیں:نور مقدم قتل کیس: ظاہر جعفر کی نظرثانی اپیل پر سماعت 8 اپریل کو مقرر

وکیل نے مزید مؤقف اپنایا کہ ان کے مؤکل نے قتل نہیں کیا بلکہ اصل میں سسر نے اپنی بیوی کو قتل کیا اور الزام داماد پر ڈال دیا۔ اس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’آپ بہت ہی معصوم ہو‘۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔

باپ کے قتل کیس میں صلح پر رہائی کا معاملہ

دوسری جانب 4 مرلہ زمین کے تنازع پر باپ کو قتل کرنے والے ملزم محمد صفدر کی صلح کی بنیاد پر رہائی کے کیس میں عدالت نے اہم قانونی نکات پر بحث کی۔

عدالت نے خواجہ حارث اور شاہ خاور کو عدالتی معاونین مقرر کرتے ہوئے تحریری گزارشات طلب کر لیں، جبکہ ملزم کے وکیل نے کیس کی تیاری کے لیے مہلت مانگ لی۔

وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ کیس ’فساد فی الارض‘ میں نہیں آتا اور ملزم کی ذہنی حالت بھی زیرِ غور لائی جائے، ساتھ ہی کہا کہ ملزم 2015 سے جیل میں ہے۔ اس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے سخت ریمارکس دیے کہ اگر دماغی خرابی ہوتی تو ملزم خود کو نقصان پہنچاتا، والد کو گولی مارنا کسی صورت قابلِ جواز نہیں۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے سوال اٹھایا کہ کیا طویل قید کاٹنے کی بنیاد پر ملزم کو بری کیا جا سکتا ہے؟ جبکہ جسٹس صلاح الدین پنہور نے کہا کہ ایسے ملزم کو نہ وراثت میں حصہ ملے گا اور نہ ہی بریت کا کوئی جواز بنتا ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے مزید ریمارکس دیے کہ ’والد کو مارنے کے بعد بریت کا سرٹیفیکیٹ کیوں چاہیے؟‘ اور ’ایسا ملزم کون سا سی ایس ایس امتحان دینا ہے یا رکنِ اسمبلی بننا ہے؟‘

عدالت نے صلح کے نظام پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ بعض اوقات بااثر افراد زبردستی صلح نامہ کرواتے ہیں اور اگر ایسے ہی رہا تو یہ ’قتل کا لائسنس‘ بن جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک قتل ہو یا 10، بعض اوقات ملزم 15 سال سزا کاٹ کر رہا ہو جاتا ہے، جو کہ خطرناک رجحان ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سرداری نظام کے خلاف جدوجہد: ام رباب چانڈیو تہرے قتل کیس کے تمام ملزمان بری، ہائیکورٹ میں اپیل کا اعلان

انہوں نے مزید کہا کہ ’دنیا میں دشمنی میں بچوں اور خواتین کو نشانہ نہیں بنایا جاتا مگر ہمارے ہاں سب کو مار دیا جاتا ہے‘، جبکہ یہ بھی کہا کہ ’جس کی جو مرضی کرے، یہ جنگل کا قانون نہیں ہو سکتا‘۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ صلح کے مثبت نتائج بھی سامنے آتے ہیں اور دشمنیاں ختم ہوتی ہیں، تاہم اس کے لیے نیت اور شفافیت جانچنے کا کوئی واضح طریقہ کار موجود نہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ اس کیس کا فیصلہ پورے ملک پر اثرانداز ہو سکتا ہے، جبکہ مختلف مقدمات میں بے گناہ افراد کے جیل جانے کا پہلو بھی زیر بحث آیا۔

آخر میں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 20 اپریل تک ملتوی کر دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp