پاکستان کے صوبہ سندھ کی سیاست اور عدالتی تاریخ میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر جانے والے ام رباب چانڈیو تہرے قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا۔ دادو کی ماڈل کریمنل ٹرائل کورٹ نے عدم ثبوت کی بنا پر 2 ارکانِ سندھ اسمبلی سمیت تمام 8 ملزمان کو بری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ فیصلے کے بعد ام رباب چانڈیو نے اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
مزید پڑھیں: کچے کے ڈاکوؤں کیخلاف آپریشن کامیاب کیوں نہیں ہوتے؟
عدالتی فیصلہ اور سیکیورٹی کے سخت انتظامات
ماڈل کریمنل کورٹ نے 27 فروری کو محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے نامزد ملزمان، جن میں پیپلز پارٹی کے ارکانِ اسمبلی سردار احمد چانڈیو، برہان خان چانڈیو اور سابق ایس ایچ او کریم بخش چانڈیو شامل ہیں، کو بری کر دیا۔
ممکنہ ردعمل کے پیش نظر ایس ایس پی دادو صدام حسین خاصخیلی نے ضلع بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی تھی۔ عدالتی مہمات اور شہر کی سیکیورٹی کے لیے 450 سے زائد پولیس اہلکار، بشمول لیڈی پولیس اور 40 ڈی ایس پیز، تعینات کیے گئے تھے جبکہ میہڑ میں ام رباب کے گھر کی سیکورٹی بھی سخت کر دی گئی تھی۔
ام رباب چانڈیو اور وکیل کا ردعمل
فیصلے کے بعد ام رباب چانڈیو کا کہنا تھا کہ ہم عوام کی عدالت میں یہ کیس جیت چکے ہیں۔ میرے حوصلے بلند ہیں، ہم اس فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ جائیں گے۔
ام رباب کے وکیل صلاح الدین پنہور نے فیصلے پر حیرت کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ کیس میں 3 عینی شاہدین اور ٹھوس میڈیکل شواہد موجود تھے، جو سزا کے لیے کافی تھے۔ انہوں نے بھی اعلیٰ عدالتوں میں اپیل دائر کرنے کی تصدیق کی۔
کیس کا پس منظر اور تاریخ: 8 سالہ طویل جدوجہد
صوبہ سندھ کے علاقے میہڑ میں ام رباب چانڈیو کے والد مختار چانڈیو، دادا کرم اللہ چانڈیو اور چچا قابل چانڈیو کو دن دیہاڑے فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا تھا۔ ورثا کے مطابق مقتولین نے علاقے میں مروجہ سرداری نظام کے خلاف تمندار کونسل قائم کی تھی، جس کی پاداش میں انہیں نشانہ بنایا گیا۔
یہ مقدمہ 8 سال تک مختلف عدالتوں میں زیر سماعت رہا۔ اسے انسداد دہشتگردی عدالت (ATC) نوشہروفیروز، سکھر، میرپور ماتھیلو اور بالآخر سیشن کورٹ دادو منتقل کیا گیا۔ ام رباب کے مطابق اس دوران 400 سے زائد سماعتیں ہوئیں۔
اس وقت کے پولیس افسر پیر محمد شاہ نے اپنی انکوائری رپورٹ میں رکن اسمبلی سردار چانڈیو اور ان کے بھائی برہان الدین کو ناکافی شواہد کی بنیاد پر کلین چٹ دی تھی، جسے مدعیہ نے مسترد کر دیا تھا۔
انصاف کے حصول کے لیے ام رباب چانڈیو نے اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی گاڑی روک کر احتجاج کیا، جس کے بعد یہ کیس قومی سطح پر توجہ کا مرکز بنا۔ وہ طویل عرصے تک ننگے پاؤں عدالتوں کے چکر کاٹتی رہیں، جو ان کی جدوجہد کی پہچان بن گیا۔
ایس ایس پی دادو صدام حسین خاصخیلی کے مطابق حساس نوعیت کے مقدمے کے پیش نظر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے احکامات پر ضلع بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ 5 سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی عائد ہوگی۔ میہڑ میں ام رباب چانڈیو کے گھر پر سیکیورٹی بھی سخت کردی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: الیکشن 2024: نتائج میں تاخیر پر مختلف سیاسی جماعتوں کا احتجاج
ایس ایس پی کے مطابق فیصلہ آنے سے قبل عدالتی احکامات پر انڈس ہائی وے پر عارضی چیک پوسٹیں قائم کرکے اسنیپ چیکنگ کی گئی۔ سیکیورٹی انتظامات کے تحت 40 سے زائد ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز کی نگرانی میں 450 سے زائد پولیس اہلکار بشمول لیڈی پولیس تعینات کیے گئے جبکہ ریسکیو، فائر بریگیڈ اور خصوصی سرچ ٹیمیں بھی ہائی الرٹ رکھی گئیں۔
سماعت کے دوران عدالتی احاطے میں اسلحہ لے جانے پر مکمل پابندی عائد کی گئی اور عوامی ہجوم و حامیوں کے داخلے کی اجازت نہیں تھی۔














