پاکستان کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرانے اور جنگ بندی میں کردار کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں نمایاں تیزی دیکھنے میں آئی ہے، جبکہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
پاکستان کی فعال سفارتکاری کے نتیجے میں ممکنہ علاقائی تصادم ٹل گیا اور آبنائے ہرمز کے گرد کشیدگی میں کمی آئی، جس سے عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا۔
اس پیش رفت کے بعد امریکا، ایشیا اور مشرق وسطیٰ کی اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی ریکارڈ کی گئی، جبکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر 100 انڈیکس میں 12 ہزار سے زیادہ پوائنٹس کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور مثبت معاشی توقعات کی عکاسی کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں کمی کے باعث توانائی کی عالمی ترسیل سے متعلق خدشات کم ہوئے ہیں، جس سے نہ صرف تیل کی قیمتوں میں استحکام آیا بلکہ توانائی درآمد کرنے والے ممالک کو بھی فوری ریلیف ملا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کے ساتھ بیک وقت اعتماد برقرار رکھتے ہوئے مؤثر سفارتی کردار ادا کیا، جبکہ سول و عسکری قیادت کی مسلسل رابطہ کاری نے اہم مواقع پر پیشرفت کو ممکن بنایا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی سطح پر کشیدگی میں کمی کے ساتھ اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی اور غیر یقینی صورتحال میں کمی ایک متوقع عمل ہے، اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں حالیہ اضافہ بھی اسی رجحان کا حصہ ہے۔
مزید برآں اسلام آباد میں آئندہ اہم مذاکرات متوقع ہیں، جہاں پاکستان ثالث کے کردار سے آگے بڑھتے ہوئے پائیدار امن کے قیام میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
ماہرین اسے حالیہ برسوں میں پاکستان کی اہم سفارتی اور معاشی کامیابیوں میں سے ایک قرار دے رہے ہیں۔












