وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے وژن کے تحت صوبے کو مکمل ڈیجیٹل اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) سے لیس بنانے کے اقدامات تیز ہو گئے ہیں۔ بینک آف پنجاب اور دی آفس آف اے آئی کے درمیان اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے، جس کا مقصد پنجاب میں ٹیکنالوجی اور اے آئی کے ذریعے ترقی کی نئی راہیں کھولنا ہے۔
مشیر وزیراعلیٰ پنجاب برائے مصنوعی ذہانت علی ڈار کی قیادت میں اس اشتراک سے صوبے میں اے آئی کے عملی استعمال کا نیا باب کھلنے جا رہا ہے۔ علی ڈار کے مطابق یہ معاہدہ پنجاب کو ڈیجیٹل دور میں آگے لے جانے، مضبوط ڈیٹا انفراسٹرکچر قائم کرنے اور صوبے کو جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا اے آئی سے فعال صوبہ بنانے کے ہدف کی تکمیل میں اہم کردار ادا کرے گا۔
علی ڈار نے بتایا کہ پنجاب اے آئی ڈیٹا سینٹر اور فنانشل ڈیٹا ویئر ہاؤس نواز شریف آئی ٹی سٹی میں قائم کیے جائیں گے، جس سے مالیاتی اور اقتصادی ڈیٹا کی بہتر نگرانی اور تجزیہ ممکن ہوگا۔ اس اقدام کے ذریعے کسانوں، چھوٹے کاروبار اور ہاؤسنگ سیکٹر کے لیے جدید کریڈٹ حل متعارف کروائے جائیں گے اور مالی سہولیات کی رسائی عام عوام تک آسان بنائی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں اب تمام ماحولیاتی اجازت نامے اب صرف ڈیجیٹل جاری ہوں گے
وزیر اعلیٰ کے وژن کے مطابق اس شراکت داری سے نوجوانوں کے لیے ٹیکنالوجی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ اسٹارٹ اپس، جامعات اور عالمی اے آئی کمپنیوں کے ساتھ اشتراک کو بھی فروغ دیا جائے گا۔ ایس ایم ایز، زراعت اور کم سہولت یافتہ طبقات کے لیے قرضوں تک رسائی میں آسانی ہوگی اور اے آئی کے ذریعے معیشت کو مضبوط اور عوام کو بااختیار بنایا جائے گا۔
علی ڈار نے مزید کہا کہ یہ اقدام ایک لاکھ سے زائد نوکریوں کے مواقع پیدا کرنے میں بھی مثبت کردار ادا کرے گا اور پنجاب کو خطے میں اے آئی کا ایک فعال مرکز بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔














