پنجاب: بچوں اور خواتین کے تحفظ کے لیے خصوصی سائبر کرائم یونٹ کی منظوری

جمعہ 10 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سوشل میڈیا پر بچوں اور خواتین کی ہراسمنٹ اور بلیک میلنگ کے خاتمے کے لیے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے پنجاب سائبر کرائم یونٹ کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔

اس اقدام کے تحت بلیک میلنگ اور ہراسمنٹ کا شکار بچوں اور بچیوں کو شکایت درج کرانے کے لیے کسی تھانے یا دفتر جانے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ موبائل یونٹ ان تک خود پہنچے گا۔

مزید پڑھیں: پنجاب میں اینٹی ڈرون یونٹ قائم کرنے کا فیصلہ، مریم نواز نے منظوری دیدی

حکام کے مطابق سوشل میڈیا ہراسمنٹ کا شکار افراد، بالخصوص خواتین، ورچوئل پولیس اسٹیشن کے ذریعے بھی شکایت درج کرا سکیں گی جبکہ متاثرہ بچوں اور خواتین کی شناخت مکمل طور پر خفیہ رکھی جائے گی۔

مزید برآں، سائبر کرائم یونٹ کے فرنٹ ڈیسک اور ’پی کے ایم‘ ایپ کے ذریعے بھی شکایات درج کرنے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ حکومت نے ایسے جرائم میں ملوث افراد کو سخت سزا دینے کیلئے نئی قانون سازی کا فیصلہ بھی کیا ہے، جس کے تحت ’پنجاب آن لائن سیفٹی ایکٹ 2026‘ کا مسودہ تیار کیا جا رہا ہے۔

ا

وزیراعلیٰ کی زیر صدارت اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ پنجاب پولیس میں سائبر پیٹرول ونگ اور سائبر پولیس اکیڈمی قائم کی جائے گی، جبکہ سوشل میڈیا کی نگرانی کے لیے جدید انٹیلی جنس سسٹم بھی متعارف کرایا جائے گا۔

مزید پڑھیں: سائبر کرائم کے خلاف کارروائی اب ایف آئی اے نہیں بلکہ الگ ادارہ کرے گا، وزیر آئی ٹی عمر سیف

مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ سائبر کرائم ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے اور نئی نسل کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ بچیوں کو بلیک میلنگ سے بچانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کیا جائے اور والدین بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر نظر رکھیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ کسی کو بھی دوسروں کی پرائیویسی میں مداخلت کا حق نہیں اور سوشل میڈیا جرائم میں ملوث افراد کو انجام تک پہنچا کر مثال قائم کی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp