امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ‘بہت گہرے مذاکرات’ جاری ہیں، جبکہ انہوں نے چین کو تہران کو اسلحہ فراہم کرنے سے متعلق خبردار بھی کیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ‘ہم دیکھیں گے کیا ہوتا ہے، ہم ایران کے ساتھ بہت گہرے مذاکرات میں ہیں، اور ہم ہر صورت میں کامیاب ہوں گے۔ ہم نے انہیں عسکری طور پر شکست دی ہے۔’
یہ بھی پڑھیے: دنیا بھر سے خالی آئل ٹینکرز عالمی معیار کا تیل اور گیس حاصل کرنے کے لیے امریکا کا رخ کررہے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
انہوں نے یہ بیان وائٹ ہاؤس سے روانگی کے موقع پر دیا، جہاں سے وہ میامی میں ایک مکسڈ مارشل آرٹس مقابلہ دیکھنے جا رہے تھے۔
چین کی جانب سے ایران کو اسلحہ فراہم کیے جانے کی ممکنہ اطلاعات پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ اگر بیجنگ نے ایسا کیا تو اسے ‘بڑے مسائل’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیے: ایران کے پاس اب دنیا کو ڈرانے کے لیے کچھ نہیں بچا، ڈونلڈ ٹرمپ، امریکی میڈیا پر تنقید
ادھر امریکا اور ایران کے درمیان نصف صدی کے دوران اعلیٰ ترین سطح کے مذاکرات پاکستان میں ہوئے، جن میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس نے کی۔ ان مذاکرات کا مقصد 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی 6 ہفتوں پر مشتمل جنگ کا خاتمہ ہے۔
جنگ بندی کے نازک ماحول کے درمیان ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوج آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کی بحالی کے لیے اقدامات شروع کر رہی ہے۔











