ایمان زینب مزاری نے سزا معطلی کی درخواست پر صرف نوٹس جاری ہونے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 19 فروری 2026 کے حکم نامے کو چیلنج کیا جا رہا ہے اور استدعا کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ ہائی کورٹ کے فیصلے میں ترمیم کرتے ہوئے سزا معطل کرے۔
یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا کیخلاف اپیلوں پر نوٹس جاری
درخواست کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے مرکزی اپیل کو سماعت کے لیے منظور تو کر لیا، تاہم سزا معطل نہیں کی، جو کہ صوابدیدی اختیارات کا غیر قانونی استعمال ہے۔ مزید کہا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ بدنیتی پر مبنی، غیر قانونی اور دائرہ اختیار سے تجاوز ہے۔
درخواست میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ ملزمہ کی عدم موجودگی میں شہادتیں ریکارڈ کرنا قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: متنازع ٹوئٹس کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو مجموعی طور پر 17،17 سال قید کی سزا سنا دی گئی
دستاویزات کے مطابق ایمان زینب مزاری کو ٹرائل کورٹ نے پیکا ایکٹ 2016 کی مختلف دفعات کے تحت مجموعی طور پر 17 سال قید کی سزا سنائی، جبکہ 3 کروڑ 60 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔
درخواست میں بتایا گیا ہے کہ ایمان زینب مزاری اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔












