ٹرمپ کی برطانیہ سے تجارتی معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی

بدھ 15 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کے ساتھ تجارتی معاہدے سے دستبردار ہونے کی دھمکی دے دی ہے، جس کے نتیجے میں امریکی ٹیرف کے اثرات محدود ہو سکتے ہیں۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انہوں نے ایک بار پھر ایران سے امریکا کی جنگ کے معاملے پر برطانیہ کی حمایت نہ کرنے پر تنقید کی ہے۔

تاہم ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور اس کے نیٹو اتحادی کے درمیان کشیدگی اس ماہ کے آخر میں کنگ چارلس کے مجوزہ دورۂ امریکا پر بالکل بھی منفی اثر نہیں ڈالے گی۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا اب کسی ملک کی مدد کے لیے موجود نہیں ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ برطانیہ اور فرانس پر برس پڑے

اسکائی نیوز کو دیے گئے ایک ٹیلیفونک انٹرویو میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے برطانیہ کو ایک اچھا تجارتی معاہدہ دیا، شاید ضرورت سے بھی بہتر، جسے کسی بھی وقت تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

گزشتہ سال لندن اور واشنگٹن کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت زیادہ تر برطانوی تیار کردہ اشیا پر امریکی ٹیرف کی حد 10 فیصد مقرر کی گئی تھی۔

اس کے بدلے برطانیہ نے امریکی ایتھنول اور بیف کے لیے اپنی منڈی مزید کھولنے پر رضامندی ظاہر کی تھی، جس پر ملک میں تشویش بھی پیدا ہوئی۔

ابتدائی طور پر یہ معاہدہ لندن کے لیے فائدہ مند تھا کیونکہ اسے امریکا کی جانب سے کم ترین ٹیرف کی سہولت حاصل ہوئی۔

تاہم بعد میں امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے کچھ ٹیرف کالعدم قرار دینے اور واشنگٹن کی جانب سے نئی پالیسی تک تقریباً تمام درآمدات پر عارضی 10 فیصد ٹیرف نافذ کرنے کے بعد یہ برتری کمزور پڑ گئی۔

اگرچہ معاہدے کے وقت ٹرمپ نے اسٹارمر کے ساتھ اچھے تعلقات کی تعریف کی تھی، مگر مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث ٹرانس اٹلانٹک تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

مزید پڑھیں: برطانیہ اور چین نے طویل المدتی شراکت داری پر اتفاق کرلیا، ٹرمپ کی ٹیرف دھمکیاں بے اثر

گزشتہ ماہ ایران پر امریکی حملوں کے لیے برطانوی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے پر صدر ٹرمپ برطانوی وزیر اعظم سے ناراض ہوئے۔

تاہم بعد میں انہوں نے محدود دفاعی مقاصد کے لیے 2 فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت دے دی۔

ٹرمپ کے مطابق یہ ایسا تعلق ہے کہ جب ہمیں ان کی مدد درکار تھی، وہ موجود نہیں تھے۔ ’جب ہمیں ان کی ضرورت تھی، وہ وہاں نہیں تھے، اور اب بھی نہیں ہیں۔‘

مزید پڑھیں: ٹرمپ کے افغان جنگ سے متعلق بیان پر برطانیہ میں شدید ردعمل کا طوفان

دوسری جانب، جنوری 2025 میں صدر ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد سے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کرنے والی لیبر حکومت نے حالیہ دنوں میں سخت مؤقف اختیار کر لیا ہے۔

برطانوی وزیرِ خزانہ ریچیل ریوز نے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کو بغیر واضح حکمتِ عملی کے ایک حماقت قرار دیا، جبکہ وزیرِ صحت ویس اسٹریٹنگ نے ٹرمپ کے بیانات کو اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا تھا۔

اسی تناظر میں ریچل ریوز کی ملاقات بدھ کو امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ سے متوقع ہے، جو عالمی مالیاتی فنڈ کے اجلاس کے موقع پر ہوگی، جہاں جنگ کے معاشی اثرات پر بھی بات چیت متوقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ٹی 20 ورلڈ کپ 2026: کینیڈا کا ایک اوور اور کئی سوال، کرپشن کی تحقیقات شروع

ایران امریکا معاہدے کی جانب اہم پیشرفت، ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا

حق دو کراچی کے بینرز لگانے اور چھاپنے والوں کو دھمکیاں دی جارہی ہیں، حافظ نعیم کا پیپلز پارٹی پر الزام

ٹائم میگزین: 100 بااثر افراد کی فہرست میں نیویارک میئر ممدانی بھی، اور کون شامل؟

وزیراعظم سے امریکی صدر کے مشیر کی ملاقات، ٹرمپ کی جانب سے نیک خواہشات پہنچائیں، علاقائی امن کے لیے کردار کی تعریف

ویڈیو

ترکیہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں: وزیراعظم شہباز شریف اور حاقان فیدان کی ملاقات، امریکا ایران امن معاہدے کی کوششیں تیز

افغانستان میں کامیاب کارروائی کے بعد پاکستان میں 70 فیصد دہشتگرد کارروائیوں میں کمی ہوئی، صحافیوں کی رائے

واسا لاہور عالمی سطح پر نمایاں، ٹاپ 5 واٹر یوٹیلیٹیز میں شارٹ لسٹ

کالم / تجزیہ

امریکا ایران مذاکرات: کیا ہونے جا رہا ہے؟

ہنساتے ببو برال کی اداس کہانی

جب پاکستان ہے تو کیا غم ہے؟