بچوں میں ایڈز کے بڑھتے کیسز، سابق وزیر صحت نے طبی نظام پر سوالات اٹھا دیے

ہفتہ 18 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ملک میں کم عمر بچوں میں ایچ آئی وی (ایڈز) کے بڑھتے ہوئے کیسز نے صحت کے شعبے کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

سابق وفاقی وزیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے ایک پریس کانفرنس کے دوران صورتحال کو نہایت تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ محض کسی ایک حکومت نہیں بلکہ مجموعی نظام کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: پنجاب کی جیلوں میں ایڈز کے مریضوں میں اضافہ کیوں؟ محکمہ داخلہ نے بتادیا

ان کے مطابق حال ہی میں ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں ضلع تونسہ کے واقعات سامنے آئے، جہاں تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال میں درجنوں کمسن بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی۔

انہوں نے کہاکہ بتایا گیا کہ 60 سے 70 بچوں میں یہ مرض پایا گیا، جس کی بڑی وجہ طبی عملے کی سنگین غفلت بنی، جہاں ایک ہی سرنج متعدد بچوں پر استعمال کی گئی۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہاکہ 2 سے 5 سال کی عمر کے ایسے بچوں میں بھی ایڈز پایا گیا جن کے والدین اس مرض سے متاثر نہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ استعمال شدہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال سے وائرس پھیل رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات صرف پنجاب تک محدود نہیں بلکہ سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بھی رپورٹ ہو چکے ہیں۔

اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کراچی کے ایک اسپتال میں تقریباً 100 بچوں میں ایچ آئی وی مثبت آیا، جبکہ اسلام آباد میں 15 ماہ کے دوران 618 نئے کیسز سامنے آئے۔ انڈس اسپتال کراچی میں گزشتہ برس 10 بچوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی، جبکہ رواں سال اب تک 25 بچے متاثر ہو چکے ہیں۔

انہوں نے عالمی ادارہ صحت کے حوالے سے کہاکہ ایشیا میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی رفتار پاکستان میں سب سے زیادہ ہے۔ ملک میں خون کی منتقلی کے دوران 70 فیصد کیسز میں مناسب اسکریننگ نہیں کی جاتی، جس سے آلودہ خون کے ذریعے بیماری کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں قریباً ایک کروڑ افراد ہیپاٹائٹس سی کا شکار ہیں، جس کی بڑی وجوہات بھی وہی ہیں، یعنی غیر محفوظ انجکشن اور خون کی ناقص جانچ۔ ان کے مطابق صحت کے شعبے کو مسلسل نظرانداز کیے جانے کے باعث صورتحال اب ممکنہ وبا کی شکل اختیار کر رہی ہے۔

انہوں نے طبی عملے کو ہدایت کی کہ وہ حفاظتی اصولوں پر سختی سے عمل کریں اور عوام کو بھی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے تونسہ واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم کمیٹی کی رپورٹ کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ کیا۔

اس موقع پر ڈاکٹر رانا جواد اصغر نے کہا کہ متاثرہ بچوں کے والدین شدید ذہنی اذیت کا شکار ہیں اور اکثر یہی سوال کرتے ہیں کہ آیا ان کے بچے زندہ رہ سکیں گے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ 09-2008 میں جلال پور جٹاں میں بھی بڑی تعداد میں افراد ایڈز سے متاثر ہوئے تھے، اور ایسے واقعات دیگر علاقوں میں بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ملک کے بیشتر اسپتالوں میں ایڈز کے لیے مخصوص شعبے کا فقدان ہے۔

نجی طبی تنظیم کے سربراہ ڈاکٹر اصغر ستی نے اس بات پر زور دیا کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کو پالیسی سازی میں شامل کیا جائے اور اس بیماری کو اخلاقی مسئلہ بنانے کے بجائے صحت کے نظام کی ناکامی کے طور پر دیکھا جائے۔

پریس کانفرنس میں شریک ایچ آئی وی سے متاثرہ خاتون نیئر مجید نے اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے کہاکہ وہ گزشتہ 3 دہائیوں سے اس بیماری کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں، مگر سماجی رویے آج بھی سخت اور امتیازی ہیں۔

انہوں نے ایک واقعہ بتایا کہ ایک مریض جو پتے کے عارضے میں مبتلا تھا، صرف ایچ آئی وی مثبت ہونے کی وجہ سے کسی ڈاکٹر کو آپریشن کے لیے آمادہ نہ کر سکا۔

مزید پڑھیں: سال 2029 تک ایڈز سے مزید 40 لاکھ افراد کی موت کا خدشہ، وجہ کیا ہے؟

انہوں نے کہا کہ وہ خیبرپختونخوا سے تعلق رکھتی ہیں اور گزشتہ 22 برس سے علاج کے باوجود معاشرتی تعصب کا سامنا کررہی ہیں۔

ڈاکٹر ظفر مرزا کے مطابق اندازے کے تحت ملک میں اس وقت قریباً 3 لاکھ 70 ہزار افراد ایچ آئی وی کا شکار ہیں، مگر صرف 21 فیصد کو اپنی بیماری کا علم ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ متاثرہ افراد میں سے 84 فیصد علاج کی سہولت سے محروم ہیں، جبکہ صرف 16 فیصد مریضوں کو باقاعدہ علاج میسر ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

برگن اسٹاک پہنچتے ہی شہباز شریف نے جرمن زبان میں صحافیوں کو حیران کر دیا

بینظیر بھٹو شہید کی 73 ویں سالگرہ، صدر مملکت اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کا شاندار خراجِ تحسین

عظمیٰ بخاری کی پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی پر تنقید، سوشل میڈیا الزامات کا جواب دے دیا

ہٹلر سے متاثراسرائیلی رکن پارلیمنٹ نے غزہ کے مسلمانوں کے مکمل خاتمے کا مشورہ دیدیا

بھارت کی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا پارلیمنٹ کے قریب تھالیاں بجا کرانوکھا احتجاج

ویڈیو

امریکا ایران اعلیٰ سطحی مذاکرات، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے

پنجاب حکومت کا بڑا منصوبہ، پنجاب فلم سٹی نے پروڈکشن کے نئے دروازے کھول دیے

بلوچستان سے عالمی میدان تک، ثروت فاطمہ کا متاثر کن بیڈمنٹن سفر

کالم / تجزیہ

پاکستانی ’انا‘، ایک خاموش وبا

پاکستان: نام ہی کافی ہے

ایران امریکا معاہدے کے بعد دنیا کیسی ہوگی؟