آبنائے ہرمز میں بھارتی تیل بردار اور تجارتی بحری جہازوں پر حملے اور انہیں روکے جانے کے واقعے پر بھارت نے سخت احتجاج کرتے ہوئے نئی دہلی میں تعینات ایرانی سفیر کو دفترِ خارجہ طلب کرلیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز کھولنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے شکرگزار
عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بھارت کے 2 بڑے تیل بردار بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے سے روک دیا ہے، ان ٹینکرز پر تقریباً 20 لاکھ بیرل عراقی تیل لدا ہوا تھا جو بھارت منتقل کیا جارہا تھا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی گن بوٹس نے ان آئل ٹینکرز کو روکنے کے لیے ان پر فائرنگ بھی کی جس کے بعد جہازوں کی پیش قدمی رک گئی۔
بھارتی وزارتِ خارجہ نے ایرانی سفیر کو باضابطہ احتجاجی مراسلہ تھمایا ہے جس میں بین الاقوامی سمندری حدود میں جہاز رانی کی آزادی کی خلاف ورزی پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے برطانیہ کا بڑا اقدام، 35 ممالک کا اجلاس طلب
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کے باعث تجارتی گزرگاہوں کی حفاظت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی تجارت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور بھارت کے لیے توانائی کی ترسیل کا اہم ترین راستہ ہے۔












