سعودی عرب کی وزارتِ داخلہ کے تحت جاری مکہ روٹ پروگرام، جو ضیوف الرحمٰن پروگرام اور وژن 2030 کا ایک اہم حصہ ہے، دنیا کے مختلف ممالک سے آنے والے حجاج کرام کے لیے سہولتوں کی فراہمی میں ایک نمایاں ماڈل کے طور پر ابھر رہا ہے۔
اس اقدام کے تحت حجاج کے سفری مراحل کو ان کے اپنے ممالک میں ہی مکمل کرلیا جاتا ہے، جس سے سعودی عرب پہنچنے پر وقت اور انتظامی پیچیدگیوں میں نمایاں کمی آتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ایئرپورٹ پر روٹ مکہ منصوبے کے تیسرے سینٹر کا افتتاح
مکہ روٹ منصوبہ اس وقت 10 ممالک میں قائم 17 مخصوص مراکز کے ذریعے فعال ہے، جن میں پاکستان، ملائیشیا، انڈونیشیا، ترکیہ، مراکش، بنگلہ دیش، سینیگال، مالدیپ، آئیوری کوسٹ اور برونائی دارالسلام شامل ہیں۔
حکام کے مطابق 2017 میں آغاز کے بعد سے اب تک اس پروگرام کے ذریعے 12 لاکھ 54 ہزار 994 سے زائد حجاج کو خدمات فراہم کی جاچکی ہیں، جو اس منصوبے کی وسعت اور اثر پذیری کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی سے روانہ ہونے والی عازمین حج کی پہلی پرواز مدینہ منورہ پہنچ گئی، پرتپاک استقبال
مکہ روٹ پروگرام مختلف سرکاری اداروں اور شراکت داروں کے تعاون سے نافذ کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد حجاج کے سفر کو مزید منظم، محفوظ اور آسان بنانا ہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے حج انتظامات کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالا جا رہا ہے۔












