بھارتی تجزیہ کار براہما چیلانی (Brahma Chellaney) کی جانب سے امریکی ویب پلیٹ فارم دی ہل (The Hill) پر شائع مضمون میں پاکستان اور ایران کو اسلامی ریاستوں کی بنیاد پر جوہری پالیسی کے تناظر میں یکساں قرار دینے کے مؤقف کو ماہرین نے گمراہ کن قرار دیا ہے۔ ماہرین نے پیش کیے گئے ’نیوکلیئر اسلامزم‘ کے تصور کو حقائق کے منافی اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران کا تقابل بنیادی طور پر غلط مفروضوں پر مبنی ہے۔
مزید پڑھیں: تحریک تحفظِ آئین پاکستان نے محسن نقوی کی پریس کانفرنس کو گمراہ کن قرار دیدیا، حکومت سے 4 اہم مطالبات
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دلیل اس مفروضے پر کھڑی ہے کہ امریکا کی جوہری پالیسی دونوں ممالک کے ساتھ مذہبی شناخت کی بنیاد پر مختلف ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ فرق قانونی، تزویراتی اور جغرافیائی عوامل سے جڑا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان اور ایران کے جوہری پروگرامز کو ایک ہی زاویے سے دیکھنا قانونی اور ادارہ جاتی فرق کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔
پاکستان جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کا رکن نہیں، اس لیے اس پر اس معاہدے کی خلاف ورزی کا اطلاق نہیں ہوتا، جبکہ ایران اس کا دستخط کنندہ اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی نگرانی میں ہے۔
While obsessing over a nuclear bomb Iran may or may not build a decade from now, Trump has effectively given Pakistan a free pass to expand its nuclear arsenal — even as the U.S. intelligence community’s latest Annual Threat Assessment, for the first time, identifies Pakistan as…
— Dr. Brahma Chellaney (@Chellaney) April 20, 2026
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کی پالیسی کو دوہرا معیار قرار دینا بھی من گھڑت بیانیہ ہے، کیونکہ واشنگٹن کے فیصلے تاریخی طور پر جغرافیائی سیاست اور سیکیورٹی ضروریات کے تحت ہوتے رہے ہیں، نہ کہ کسی مذہبی یا نظریاتی وابستگی کی بنیاد پر۔
مزید کہا گیا کہ پاکستان کا جوہری پروگرام جنوبی ایشیا میں سیکیورٹی خدشات اور بھارت کے 1974 کے ایٹمی تجربے کے ردعمل میں سامنے آیا، جبکہ ایران کا معاملہ ایک معاہداتی اور بین الاقوامی نگرانی کے فریم ورک کے اندر رہا ہے۔
تجزیہ کار اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ عالمی جوہری نظام میں اصل سوالات دیگر مثالوں سے جڑے ہیں، جیسے 2008 میں بھارت کو نیو کلیئر سپلائرز گروپ (Nuclear Suppliers Group) کی جانب سے خصوصی چھوٹ ملنا، حالانکہ وہ بھی این پی ٹی سے باہر ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کے ساتھ نیوکلیئر مذاکرات جمعہ کو مسقط میں ہوں گے، امریکا کی تصدیق
ماہرین کے مطابق جوہری ہتھیار ریاستی اداروں، کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز اور دفاعی حکمت عملی کے تحت چلتے ہیں، نہ کہ مذہبی شناخت کی بنیاد پر۔ اس لیے ’نیوکلیئر اسلامزم‘ جیسی اصطلاحات علمی تجزیے کے بجائے سیاسی بیانیہ زیادہ معلوم ہوتی ہیں۔
نتیجتاً، ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور ایران کا تقابل عالمی عدم پھیلاؤ کے نظام میں حقیقی پیچیدگیوں کو نظر انداز کرتا ہے اور خطے کی اسٹریٹجک حقیقتوں کو سادہ بنا کر پیش کرتا ہے۔














