ہمارے باورچی خانوں میں ایسے انتہائی باریک پلاسٹک ذرات موجود ہوتے ہیں جنہیں مائیکروپلاسٹکس اور نینوپلاسٹکس کہا جاتا ہے اور یہ ہماری روزمرہ خوراک کا حصہ بن جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گھروں کی ہوا میں کروڑوں مائیکرو پلاسٹک موجود، بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ ذرات 5 ملی میٹر سے بھی چھوٹے ہوتے ہیں اور پانی، خوراک، پیکجنگ، برتنوں اور حتیٰ کہ کھانا پکانے کے دوران بھی انسانی جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔
نئی سائنسی تحقیقات کے مطابق یہ مائیکروپلاسٹکس نہ صرف نلکے اور بوتل بند پانی میں پائے گئے ہیں بلکہ گوشت، سبزیوں، انڈوں، دودھ، شہد اور اناج جیسی بنیادی غذاؤں میں بھی ان کی موجودگی رپورٹ ہوئی ہے۔
تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ زراعت کے دوران مٹی میں موجود پلاسٹک کے ذرات پودوں کے ذریعے خوراک کا حصہ بن سکتے ہیں جبکہ فوڈ پروسیسنگ کے مراحل میں بھی آلودگی بڑھ جاتی ہے۔
مزید پڑھیے: چین میں ’پلاسٹک ایٹنگ ڈائٹ‘ وائرل، ماہرین کی وارننگ
ایک عالمی تحقیق کے مطابق سنہ 1990 کے مقابلے میں آج انسان مائیکروپلاسٹکس کی مقدار میں کئی گنا زیادہ اضافہ دیکھ رہے ہیں۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ فوڈ انڈسٹری میں بڑے پیمانے پر پلاسٹک کے استعمال کی وجہ سے یہ مسئلہ مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔
کچن میں استعمال ہونے والی عام اشیا بھی اس آلودگی کا ذریعہ بنتی ہیں۔ مثال کے طور پر پلاسٹک کے کٹنگ بورڈز، چمچ، اسپاتولا، مکسنگ باؤلز اور نان اسٹک پینز استعمال کے دوران باریک ذرات خارج کر سکتے ہیں خاص طور پر جب ان پر خراشیں پڑ جائیں یا یہ زیادہ عرصہ استعمال ہوں۔
کٹنگ بورڈ گرامز کے حساب سے ہمیں پلاسٹک کھلاتا ہے
ایک تحقیق کے مطابق صرف کٹنگ بورڈز سے سالانہ گرامز کے حساب سے پلاسٹک خوراک میں شامل ہو سکتا ہے۔
مزید یہ کہ کھانا گرم کرنے کے عمل سے بھی خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ مائیکروویو میں پلاسٹک کنٹینرز استعمال کرنے سے لاکھوں سے اربوں تک ذرات خوراک میں شامل ہو سکتے ہیں جبکہ گرم پانی یا چائے میں استعمال ہونے والے کچھ ٹی بیگز بھی پلاسٹک کے باریک ذرات خارج کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پانی بھی ایک اہم ذریعہ ہے۔ بوتل بند پانی میں بھی مائیکروپلاسٹکس پائے گئے ہیں جبکہ نلکے کے پانی میں بھی یہ ذرات موجود ہو سکتے ہیں۔ تاہم فلٹر استعمال کرنے سے ان کی مقدار کافی حد تک کم کی جا سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں پلاسٹک انسانی صحت اور قدرتی ماحول کس طرح تباہ کر رہاہے؟
تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ پلاسٹک کی پیکیجنگ کھولنے سے بھی باریک ذرات پیدا ہوتے ہیں اور بار بار استعمال ہونے والے پلاسٹک برتن وقت کے ساتھ مزید آلودگی کا باعث بنتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مکمل طور پر پلاسٹک سے بچنا ممکن نہیں لیکن احتیاطی اقدامات سے اس کی مقدار کم کی جا سکتی ہے۔ ان میں شامل ہے کہ کھانے کو اچھی طرح دھونا، پلاسٹک کے بجائے شیشے یا اسٹیل کے برتن استعمال کرنا، پانی کو فلٹر کرنا اور خراب یا خراش زدہ پلاسٹک اشیاء کو تبدیل کرنا۔
یہ بھی پڑھیے: عالمی یوم ماحولیات: پلاسٹک آلودگی سے زمین، سمندر اور انسان سب خطرے میں
سائنس دان اس بات پر متفق ہیں کہ یہ مسئلہ صرف انفرادی نہیں بلکہ عالمی سطح پر پلاسٹک کے بے تحاشا استعمال سے جڑا ہوا ہے اور اس کے حل کے لیے بڑے پیمانے پر پالیسی اور صنعتی تبدیلیاں ضروری ہیں۔














