ناسا کی نئی انقلابی دوربین: نئے سیاروں کی کھوج، کائنات کے پوشیدہ راز افشا ہونے کی توقع

بدھ 22 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی خلائی ادارے ناسا نے ایک جدید اور طاقتور خلائی دوربین متعارف کروا دی ہے جس کا مقصد کائنات کے وسیع حصوں کی کھوج لگانا نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں کی نشاندہی کرنا اور ڈارک میٹر و ڈارک انرجی سے متعلق سائنسی معلومات کو مزید بہتر بنانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان خلا میں جانے کو تیار، سپارکو نے مشن کی تیاری کے لیے 2 خلا باز چین بھیج دیے

رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ نامی اس دوربین سے توقع کی جا رہی ہے کہ یہ ہزاروں نئے سیاروں (ایگزوپلانیٹس) دریافت کرے گی اور یہ جاننے میں مدد دے گی کہ کائنات میں ایسے سیارے کتنی تعداد میں موجود ہیں۔

اس موقعے پرناسا ایڈمنسٹریٹر جیرڈ آئزک مین کا کہنا ہے کہ یہ دوربین زمین کو کائنات کا ایک نیا نقشہ فراہم کرے گی۔

تقریباً 12 میٹر چوڑی اس دوربین کو بڑے شمسی پینلز سے لیس کیا گیا ہے اور اسے جلد فلوریڈا منتقل کیا جائے گا جہاں سے اسے اسپیس ایکس کے راکٹ کے ذریعے ممکنہ طور پر ستمبر میں خلا میں بھیجا جائے گا۔

مزید پڑھیے: ناسا کا خلائی جہاز خلابازوں کے لیے سائنسی آلات لے کر عالمی خلائی اسٹیشن روانہ

4 ارب ڈالر سے زائد لاگت اور ایک دہائی سے زائد عرصے میں مکمل ہونے والا یہ منصوبہ معروف ماہر فلکیات نینسی گریس رومن کے نام سے منسوب ہے جنہیں ’مدر آف ہبل‘ بھی کہا جاتا ہے۔

نینسی گریس کون تھیں؟

25 دسمبر 2018 میں نینسی گریس کا 93 برس کی عمر میں انتقال ہوگیا تھا۔ وہ ناسا کی پہلی چیف آف آسٹرونومی تھیں اور انہوں نے خلائی دوربینوں کے استعمال کے ذریعے کائنات کے مطالعے کو ایک نئی سمت دی۔

ان کی خدمات کے اعتراف میں نئے خلائی منصوبے رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ کو ان ہی کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔

جب ناسا کا قیام سنہ 1958 میں ہوا تو اس وقت خلائی تحقیق کا شعبہ ابھی ابتدائی مراحل میں تھا۔ نینسی گریس رومن کو بعد میں اس شعبے کو منظم کرنے اور فلکیاتی پروگرامز کو آگے بڑھانے کے لیے مقرر کیا گیا یوں وہ اس عہدے پر آنے والی پہلی شخصیت بنیں۔

نئی دوربین کی ’نظر‘ پرانی کی نسبت 100 گنا زیادہ تیز

ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کے مقابلے میں رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ کم از کم 100 گنا زیادہ وسیع منظر (فیلڈ آف ویو) رکھتی ہے اور زمین سے تقریباً 15 لاکھ کلومیٹر دور خلا میں رہ کر کائنات کے بڑے حصوں کا مشاہدہ کرے گی۔

ماہرین کے مطابق یہ روزانہ تقریباً 11 ٹیرا بائٹس ڈیٹا زمین پر بھیجے گی، جو ایک ریکارڈ مقدار ہے۔

مزید پڑھیں: ناسا کا آرٹیمس 2 مشن سیدھا چاند کی جانب کیوں نہیں جارہا؟ تفصیلات سامنے آگئیں

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ دوربین اربوں کہکشاؤں، ہزاروں سپرنووا اور کھربوں ستاروں کا ریکارڈ تیار کرے گی جبکہ یہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ جیسے دیگر مشنز کے ساتھ مل کر مزید تحقیق کے لیے نئے اہداف بھی فراہم کرے گی۔

اہم بات یہ ہے کہ یہ دوربین کائنات کی ان پوشیدہ طاقتوں کا بھی مطالعہ کرے گی جنہیں ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کہا جاتا ہے۔ جدید انفراریڈ ٹیکنالوجی کے ذریعے یہ قدیم روشنی کا مشاہدہ کر کے کائنات کے بنیادی رازوں کو سمجھنے میں مدد دے گی۔

یہ بھی پڑھیے: ناسا کا سائنسدان خلا میں پراسرار طور پر بولنے کی صلاحیت کھو بیٹھا

منصوبے سے وابستہ انجینیئر مارک میلٹن کے مطابق اس دوربین کی اصل کامیابی شاید کسی ایسے سائنسی انکشاف کی صورت میں سامنے آئے جس کا ابھی تک تصور بھی نہیں کیا گیا اور ممکن ہے کہ مستقبل میں یہ کسی بڑے عالمی اعزاز کا سبب بھی بنے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان میں 2 دہائیوں بعد سمندری تیل و گیس کی تلاش دوبارہ شروع، 23 آف شور بلاکس کی منظوری

تلویندر کے ساتھ پرفارمنس پر پاکستانی گلوکار حسن رحیم نے خاموشی توڑ دی

پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل، مظفرآباد میں پرچم کشائی کی پروقار تقریب

امریکا نے سابق کیوبن صدر راؤل کاسترو پر فوجداری الزامات عائد کردیے

آزاد کشمیر انتخابات 2026: مسلم لیگ (ن) کی سیاسی کمیٹی کا اہم اجلاس اسلام آباد میں جاری

ویڈیو

پشاور کی مویشی منڈی: جانور اور قیمتیں زیادہ، خریدار پریشان

مسئلہ کشمیر مہاجرین کی وجہ سے زندہ، پیپلز پارٹی اور ایکشن کمیٹی الیکشن ملتوی کرانے کے لیے ایک پیج پر ہیں، احمد رضا قادری

28ویں آئینی ترمیم کب پیش ہوگی؟ ن لیگ اور پیپلز پارٹی سمیت تمام جماعتیں کھل کر بات کرنے سے گریزاں

کالم / تجزیہ

عورت اور مرد کی کشمکش

کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟