امریکی خلائی ادارے ناسا نے ایک جدید اور طاقتور خلائی دوربین متعارف کروا دی ہے جس کا مقصد کائنات کے وسیع حصوں کی کھوج لگانا نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں کی نشاندہی کرنا اور ڈارک میٹر و ڈارک انرجی سے متعلق سائنسی معلومات کو مزید بہتر بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان خلا میں جانے کو تیار، سپارکو نے مشن کی تیاری کے لیے 2 خلا باز چین بھیج دیے
رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ نامی اس دوربین سے توقع کی جا رہی ہے کہ یہ ہزاروں نئے سیاروں (ایگزوپلانیٹس) دریافت کرے گی اور یہ جاننے میں مدد دے گی کہ کائنات میں ایسے سیارے کتنی تعداد میں موجود ہیں۔ 
اس موقعے پرناسا ایڈمنسٹریٹر جیرڈ آئزک مین کا کہنا ہے کہ یہ دوربین زمین کو کائنات کا ایک نیا نقشہ فراہم کرے گی۔
تقریباً 12 میٹر چوڑی اس دوربین کو بڑے شمسی پینلز سے لیس کیا گیا ہے اور اسے جلد فلوریڈا منتقل کیا جائے گا جہاں سے اسے اسپیس ایکس کے راکٹ کے ذریعے ممکنہ طور پر ستمبر میں خلا میں بھیجا جائے گا۔
مزید پڑھیے: ناسا کا خلائی جہاز خلابازوں کے لیے سائنسی آلات لے کر عالمی خلائی اسٹیشن روانہ
4 ارب ڈالر سے زائد لاگت اور ایک دہائی سے زائد عرصے میں مکمل ہونے والا یہ منصوبہ معروف ماہر فلکیات نینسی گریس رومن کے نام سے منسوب ہے جنہیں ’مدر آف ہبل‘ بھی کہا جاتا ہے۔
نینسی گریس کون تھیں؟
25 دسمبر 2018 میں نینسی گریس کا 93 برس کی عمر میں انتقال ہوگیا تھا۔ وہ ناسا کی پہلی چیف آف آسٹرونومی تھیں اور انہوں نے خلائی دوربینوں کے استعمال کے ذریعے کائنات کے مطالعے کو ایک نئی سمت دی۔
ان کی خدمات کے اعتراف میں نئے خلائی منصوبے رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ کو ان ہی کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔
جب ناسا کا قیام سنہ 1958 میں ہوا تو اس وقت خلائی تحقیق کا شعبہ ابھی ابتدائی مراحل میں تھا۔ نینسی گریس رومن کو بعد میں اس شعبے کو منظم کرنے اور فلکیاتی پروگرامز کو آگے بڑھانے کے لیے مقرر کیا گیا یوں وہ اس عہدے پر آنے والی پہلی شخصیت بنیں۔
نئی دوربین کی ’نظر‘ پرانی کی نسبت 100 گنا زیادہ تیز
ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کے مقابلے میں رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ کم از کم 100 گنا زیادہ وسیع منظر (فیلڈ آف ویو) رکھتی ہے اور زمین سے تقریباً 15 لاکھ کلومیٹر دور خلا میں رہ کر کائنات کے بڑے حصوں کا مشاہدہ کرے گی۔
ماہرین کے مطابق یہ روزانہ تقریباً 11 ٹیرا بائٹس ڈیٹا زمین پر بھیجے گی، جو ایک ریکارڈ مقدار ہے۔
مزید پڑھیں: ناسا کا آرٹیمس 2 مشن سیدھا چاند کی جانب کیوں نہیں جارہا؟ تفصیلات سامنے آگئیں
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ دوربین اربوں کہکشاؤں، ہزاروں سپرنووا اور کھربوں ستاروں کا ریکارڈ تیار کرے گی جبکہ یہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ جیسے دیگر مشنز کے ساتھ مل کر مزید تحقیق کے لیے نئے اہداف بھی فراہم کرے گی۔
NASA Unveils Roman Space Telescope to Map Universe, Hunt New Planets
It is a $4+ billion mission designed to map the universe, detect exoplanets, and study dark matter and dark energy. pic.twitter.com/f1HUIuUNw5
— WE News English (@WENewsEnglish) April 22, 2026
اہم بات یہ ہے کہ یہ دوربین کائنات کی ان پوشیدہ طاقتوں کا بھی مطالعہ کرے گی جنہیں ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کہا جاتا ہے۔ جدید انفراریڈ ٹیکنالوجی کے ذریعے یہ قدیم روشنی کا مشاہدہ کر کے کائنات کے بنیادی رازوں کو سمجھنے میں مدد دے گی۔
یہ بھی پڑھیے: ناسا کا سائنسدان خلا میں پراسرار طور پر بولنے کی صلاحیت کھو بیٹھا
منصوبے سے وابستہ انجینیئر مارک میلٹن کے مطابق اس دوربین کی اصل کامیابی شاید کسی ایسے سائنسی انکشاف کی صورت میں سامنے آئے جس کا ابھی تک تصور بھی نہیں کیا گیا اور ممکن ہے کہ مستقبل میں یہ کسی بڑے عالمی اعزاز کا سبب بھی بنے۔












