وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں ہونے والی تقریب میں فائرنگ کے واقعے سے چند گھنٹے قبل دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اس رات تقریب ‘تفریحی اور مزاحیہ’ ہوگی اور وہاں ‘شاٹس فائر ہوں گی’۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق انہوں نے کہا، ‘یہ بہت مزاحیہ اور انٹرٹیننگ ہوگا، سب کو دیکھنا چاہیے، آج رات کمرے میں کچھ شاٹس فائر ہوں گی’۔ ان کا اشارہ غالباً مزاحیہ جملوں اور سیاسی طنز کی طرف تھا جو ڈونلڈ ٹرمپ اپنی تقریر میں کرنے والے تھے۔
یہ بھی پڑھیے: واشنگٹن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں تقریب میں فائرنگ، حملہ آور گرفتار
تقریب سے قبل لارا ٹرمپ نے بھی ایک پوڈکاسٹ میں کہا کہ صدر نے اپنی تقریر کے لیے مزاحیہ لکھاریوں کی مدد لی ہے اور وہ صحافیوں کو طنز کا نشانہ بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ امید کرتی ہیں کہ صدر تقریب میں بھرپور مزاح پیش کریں گے۔
بعد ازاں ہوٹل کی لابی میں، جہاں وائٹ ہاؤس کریسپانڈنٹس ڈنر منعقد ہونا تھا، فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ سیکیورٹی اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے کے بعد کہا کہ سیکیورٹی اداروں نے تیزی اور بہادری سے کام کیا اور صورتحال پر قابو پا لیا۔ ابتدا میں انہوں نے تقریب جاری رکھنے کی تجویز دی تھی تاہم بعد میں سیکیورٹی خدشات کے باعث تقریب منسوخ کر دی گئی۔
یہ بھی پڑھیے: امریکی صدر ٹرمپ کی تقریب میں فائرنگ کرنے والا شخص کون تھا؟
واقعے کے بعد واشنگٹن میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ حکام نے فائرنگ کے محرکات اور حملہ آور کے پس منظر کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق تفتیشی ادارے مختلف زاویوں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں اور مزید تفصیلات سامنے آنے کا انتظار ہے۔













