طبی ماہرین نے ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ کولون یا بڑی آنت کا کینسر اب 50 سال سے کم عمر افراد میں موت کی ایک بڑی وجہ بن کر ابھرا ہے۔
ماہرِ امراضِ معدہ ڈاکٹر تریشا پاسریکا کا کہنا ہے کہ اس سنگین صورتحال کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگ باتھ روم میں پیش آنے والی تبدیلیوں کو یا تو نوٹ نہیں کرتے یا پھر شرمندگی کی وجہ سے ان کا ذکر کرنے سے کتراتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کی 5 فیصد آبادی میں کینسر جینز کی موجودگی، تحقیق نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
ان کے مطابق کینسر کی اس قسم کو اگر ابتدائی مرحلے میں پکڑ لیا جائے تو علاج کے امکانات بہت روشن ہوتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے اکثر کیسز اس وقت سامنے آتے ہیں جب بیماری کافی حد تک پھیل چکی ہوتی ہے۔
ڈاکٹر تریشا کے مطابق ہر انسان کو اپنے جسم کے اخراجی نظام کے معمولات کا علم ہونا چاہیے تاکہ کسی بھی غیر معمولی تبدیلی کو فوراً پہچانا جا سکے۔ اس سلسلے میں دو علامات انتہائی خطرناک قرار دی گئی ہیں؛ اول یہ کہ اگر پاخانے کی ساخت مستقل طور پر بہت باریک یا ربن کی طرح ہو جائے، جو اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ آنت میں موجود کوئی رسولی اسے دبا رہی ہے۔
دوم یہ کہ فضلے میں کسی بھی شکل میں خون کا آنا ایک واضح خطرے کی گھنٹی ہے جس پر پہلے ہی دن ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ اگرچہ خون آنے کی دیگر وجوہات بھی ہو سکتی ہیں، لیکن کینسر کے خدشے کو رد کرنا سب سے ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قدیم ترین دوا ’اسپرین‘ کینسر کا خطرہ کم کرتی ہے، نئی تحقیق
اس کے علاوہ ماہرین نے اسہال، قبض یا باتھ روم جانے کی عادات میں ایسی تبدیلیوں کی طرف بھی اشارہ کیا ہے جو چند ہفتوں سے زیادہ برقرار رہیں۔ پیٹ کے نچلے حصے میں ایسا ہلکا درد جو مستقل رہے اور بغیر کسی مشقت کے رہنے والی مسلسل تھکاوٹ بھی اس مرض کی خاموش نشانیاں ہو سکتی ہیں۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان علامات کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کرنا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے صحت کے معاملے میں کسی بھی قسم کی شرمندگی کو بالائے طاق رکھ کر فوری طبی مشورہ لینا ہی دانشمندی ہے۔














