مالی میں شدت پسندوں کے حملوں میں وزیر دفاع ہلاک

پیر 27 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مالی کے وزیر دفاع سادیو کامارا کے دارالحکومت بماکو کے قریب ایک بڑے حملے میں ہلاک ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ فرانسیسی نشریاتی ادارے اور ان کے قریبی رشتہ داروں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ہفتے کے روز حملے میں مارے گئے۔

رپورٹ کے مطابق حملہ کاتی کے علاقے میں کیا گیا، جو بماکو سے تقریباً 15 کلومیٹر شمال میں واقع اہم فوجی اڈا ہے۔ یہ کارروائی شدت پسند تنظیم جماعت نصرت الاسلام والمسلمین (جے این آئی ایم) نے کی، جس نے ایک طوارق اکثریتی باغی گروہ کے ساتھ مل کر مختلف علاقوں میں مربوط حملے کیے۔

یہ بھی پڑھیے: وزیر بحری امور نے صومالی قزاقوں کے ہاتھوں ٹینکر اغوا پر رپورٹ طلب کر لی

تجزیہ کاروں اور سفارتی ذرائع کے مطابق یہ حالیہ برسوں میں مالی پر ہونے والے سب سے بڑے منظم حملوں میں سے ایک ہے۔

مالی کی وزارت دفاع اور حکومتی ترجمان نے اس معاملے پر فوری ردعمل نہیں دیا۔ فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ملک کے مختلف حصوں میں باغیوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے مالی کے مختلف علاقوں میں حملوں پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے ان واقعات کی مذمت کی ہے۔ عالمی ادارے نے مغربی افریقہ کے ساحلی خطے میں دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی ردعمل پر زور دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ورلڈ بینک نے پاکستان کو جنوبی ایشیا سے نکال کر مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ گروپ میں شامل کیوں کیا؟

اگر وزیر دفاع کی ہلاکت کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ مالی کی فوجی قیادت کے لیے بڑا دھچکا ہوگا۔ سادیو کامارا موجودہ فوجی حکومت کے اہم رکن تھے اور روس کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہے تھے۔

مالی میں 2020 اور 2021 کی فوجی بغاوتوں کے بعد برسر اقتدار آنے والی حکومت نے مغربی ممالک سے فوجی تعاون کم کر کے روس کے ساتھ قریبی روابط قائم کیے تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp