امریکا کی ریاست فلوریڈا میں 2 بنگلہ دیشی ڈاکٹریٹ طلبا کے قتل کے بعد بنگلہ دیش نے واقعے کی فوری، مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکی حکام نے واقعے میں ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔
متاثرین کی شناخت ناہیدہ سلطانہ برشتی اور جمیل احمد لیمون کے طور پر ہوئی ہے، جو یونیورسٹی آف ساؤتھ فلوریڈا میں پی ایچ ڈی کے طلبا تھے۔ دونوں 16 اپریل کو لاپتا ہوئے تھے جس کے بعد ان کے اہل خانہ اور بنگلہ دیشی حکام میں تشویش پیدا ہو گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش بارڈر گارڈز کی میانمار سرحد کے قریب بڑی کارروائی، بھاری مقدار میں گولہ بارود برآمد
ڈھاکا میں اتوار کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بنگلہ دیش کی وزیر مملکت برائے خارجہ امور شاما عبید اسلام نے واقعے کو ‘انتہائی افسوسناک’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ذمہ دار افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی توقع رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں بنگلہ دیشی سفارت خانہ مسلسل امریکی محکمہ خارجہ، فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن اور دیگر متعلقہ اداروں سے رابطے میں ہے۔ دونوں متاثرہ خاندانوں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے اور انہیں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
ایک جسدِ خاکی برآمد، دوسری طالب علم کی تلاش جاری
بنگلہ دیشی حکام کے مطابق جمیل احمد لیمون کی لاش برآمد کر لی گئی ہے، جبکہ ناہیدہ سلطانہ برشتی 10 دن سے زائد وقت گزرنے کے باوجود لاپتا ہیں۔ ان کے اہل خانہ شدید بے چینی کے ساتھ آخری خبر کے منتظر ہیں۔
امریکی ریاست فلوریڈا میں سرچ آپریشن جاری ہے۔ بنگلہ دیشی حکام کے مطابق ایک رہائشی مقام سے ملنے والے جسم کے ایک حصے کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ برشتی کا ہو سکتا ہے، تاہم حتمی تصدیق باقی ہے۔
مشتبہ شخص گرفتار
ہلزبرہ کاؤنٹی شیرف آفس کے تفتیش کاروں نے بنگلہ دیشی سفارت کاروں کو بتایا ہے کہ ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر کے دوہرے قتل کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ تاہم مزید تفصیلات تفتیش مکمل ہونے تک ظاہر نہیں کی گئیں۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق گرفتار شخص جمیل احمد لیمون کا روم میٹ بتایا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش کی حساس تنصیبات پر حملوں کا خدشہ، ملک بھر میں سیکیورٹی الرٹ جاری
بنگلہ دیشی حکومت کے مطابق قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم مکمل ہونے کے بعد جمیل احمد لیمون کی میت وطن بھیجنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔ اس عمل میں وزارت اوورسیز ایمپلائیز ویلفیئر اور امریکا میں بنگلہ دیشی مشن شامل ہیں۔
حکام نے بتایا کہ دونوں طلبا انشورنس کے تحت کورڈ تھے جس سے میت کی منتقلی کے اخراجات میں مدد ملے گی۔
بنگلہ دیش میں دونوں طلبا کے اہل خانہ شدید غم اور صدمے میں ہیں۔ جمیل احمد لیمون کے اساتذہ اور ساتھی طلبہ نے انہیں ایک باصلاحیت اور محنتی طالب علم قرار دیا ہے۔
ڈھاکا میں حکام نے کہا ہے کہ وہ امریکی اداروں کے ساتھ قریبی رابطے میں رہیں گے جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتیں اور دونوں خاندانوں کو مکمل انصاف فراہم نہیں کیا جاتا۔












