ٹیکنالوجی کمپنی میٹا پلیٹ فارمز نے خلائی توانائی کے شعبے کی اسٹارٹ اپ کمپنیوں کے ساتھ معاہدہ کیا ہے تاکہ اپنے ڈیٹا سینٹرز کے لیے شمسی توانائی حاصل کی جا سکے اور بڑھتی ہوئی توانائی کی طلب پوری کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیٹا سینٹرز میں بجلی کی بے تحاشا کھپت، اوپن اے آئی نے حل ڈھونڈ لیا
میٹا جس کی بنیاد مارک زکربرگ نے رکھی نے اوور ویو انرجی کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت کمپنی کے خلائی شمسی توانائی کے نظام سے بجلی حاصل کی جائے گی۔ یہ توانائی براہ راست زمین پر موجود ڈیٹا سینٹرز کو فراہم کی جائے گی جس کا مقصد مستقبل میں 24 گھنٹے بلا تعطل توانائی حاصل کرنا ہے۔
کمپنی کے مطابق اس نظام کا پہلا مدار میں تجربہ سنہ 2028 میں متوقع ہے جبکہ سنہ 2030 تک تجارتی سطح پر بجلی کی فراہمی شروع ہونے کا امکان ہے۔
معاہدے کے تحت میٹا کو اس نظام کی ایک گیگا واٹ تک توانائی تک ابتدائی رسائی حاصل ہو گی تاہم مالی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔
میٹا کے نائب صدر برائے توانائی اور پائیداری نٹ سالسٹروم کے مطابق خلائی شمسی ٹیکنالوجی توانائی کے شعبے میں ایک انقلابی قدم ہے جو مدار سے مسلسل اور بلا تعطل توانائی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
مزید پڑھیے: کیا بڑے سائز کے ڈیٹا سینٹرز کا دور ختم ہونے والا ہے؟
گزشتہ چند سالوں میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے باعث توانائی کے طویل المدتی معاہدوں پر توجہ بڑھا دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کمپنیاں روایتی بجلی کے نظام پر دباؤ کم کرنے کے لیے نئے توانائی ذرائع بھی تلاش کر رہی ہیں۔
میٹا اس وقت امریکا میں کئی گیگا واٹ سطح کے ڈیٹا سینٹرز تعمیر کر رہا ہے جن میں لوزیانا میں ایک بڑا منصوبہ بھی شامل ہے۔
کمپنی نے پہلے بھی نیوکلیئر توانائی کے شعبے میں وسٹا کروپ، اوکلو انک اورٹیرا پاور جیسے اداروں کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔
مزید پڑھیں: مصنوعی ذہانت کے نئے قلعے: ہزاروں ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر جاری، لاگت کتنی؟
ماہرین کے مطابق یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ ٹیک کمپنیاں مستقبل میں توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کے لیے روایتی ذرائع کے ساتھ ساتھ خلائی اور جوہری توانائی جیسے متبادل ذرائع پر بھی تیزی سے انحصار بڑھا رہی ہیں۔













