پاکستان کی فلم انڈسٹری جو گزشتہ کئی دہائیوں سے زوال کا شکار تھی اب پنجاب حکومت کی جانب سے ایک بڑے اور منظم اصلاحاتی منصوبے کے تحت بحالی کی جانب بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان فلم انڈسٹری میں نیلو کی زندگی کے دو سنہرے دور
فلم انڈسٹری آزادی کے بعد بالخصوص لاہور میں ایک مضبوط مرکز کی حیثیت رکھتی تھی تاہم گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلسل زوال کا شکار رہی ہے۔ سنہ 1970 کی دہائی کے بعد سنیما گھروں کی بندش، ٹی وی اور بعد ازاں ڈیجیٹل میڈیا کے عروج، جدید انفراسٹرکچر کی کمی، حکومتی سطح پر محدود توجہ اور سرمایہ کاری کے فقدان نے مقامی فلم سازی کو شدید نقصان پہنچایا۔
اس عرصے میں پروڈیوسرز نے نہ صرف پنجاب میں پروجیکٹس بنانے کم کر دیے بلکہ بہتر سہولیات اور مالی معاونت نہ ہونے کے باعث فلم پروڈکشن کا رخ دیگر ممالک یا بیرونی لوکیشنز کی طرف منتقل ہو گیا۔ انڈسٹری سے وابستہ افراد کا کہنا تھا کہ سرکاری سرپرستی کے بغیر فلم سازی تقریباً جمود کا شکار ہو گئی تھی۔
وزیراعلیٰ پنجاب کے بڑے اقدامات
اس صورتحال کو تبدیل کرنے کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے 20 اپریل 2025 کو فلم انڈسٹری کی بحالی کے لیے تاریخی اقدامات کی ہدایت کی ہے۔
مزید پڑھیے: عید الاضحی پر ریلیز ہونیوالی ’عمرو عیار‘ پاکستانی فلم انڈسٹری کی بحالی کا ثبوت
ان اقدامات میں پنجاب میں جدید طرز کا فلم سٹی، اسٹوڈیوز، پوسٹ پروڈکشن لیب اور فلم اسکول کا قیام شامل ہے۔
اس منصوبے کے تحت نواز شریف آئی ٹی سٹی لاہور میں 50 ایکڑ اراضی پر پنجاب فلم سٹی قائم کیا جا رہا ہے جسے ملک کا پہلا مکمل ’اینڈ ٹو اینڈ میڈیا پروڈکشن ہب‘ قرار دیا جا رہا ہے۔
پنجاب فلم سٹی اتھارٹی کے قیام کا فیصلہ
حکومت نے اس منصوبے کو منظم اور ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے پنجاب فلم سٹی اتھارٹی کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں: شان شاہد اور میرا کی جوڑی فلم ’سائیکو‘ میں ایک بار پھر جلوہ گر ہوگی
یہ اتھارٹی فلم سازی، ڈرامہ اور ڈاکیومنٹری پروڈکشن کی نگرانی کرے گی اور انڈسٹری کی ترقی کے لیے پالیسی سازی بھی کرے گی۔
اس اتھارٹی کے ذریعے نئی فلم پالیسی، قواعد و ضوابط اور لائسنسنگ کا جدید نظام متعارف کرایا جائے گا۔
فلم سازوں کو ون ونڈو آپریشن کے تحت سہولتیں فراہم کی جائیں گی جبکہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے خصوصی مراعات بھی دی جائیں گی۔
سہولیات، فنڈنگ اور ٹریننگ پروگرامز
پنجاب فلم سٹی اتھارٹی کے تحت فلم اسٹوڈیوز، پوسٹ پروڈکشن سہولیات اور جدید پروڈکشن یونٹس قائم کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستانی سنیما میں نیا باب، انسپکٹر جمشید ایک بڑے بجٹ کا فلمی تجربہ
حکومت کی جانب سے فلم انڈسٹری کے لیے فنڈنگ، گرانٹس اور سبسڈی کا بھی نظام متعارف کرایا جائے گا۔
اس کے ساتھ ساتھ نئے ٹیلنٹ کی تربیت کے لیے خصوصی ٹریننگ پروگرامز شروع کیے جائیں گے تاکہ اداکاری، ڈائریکشن اور جدید پروڈکشن ٹیکنالوجی میں نوجوانوں کو عالمی معیار کی مہارت فراہم کی جا سکے۔
اتھارٹی کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ فلم انڈسٹری سے متعلق شکایات اور مسائل کے حل کے لیے اقدامات کرے۔
ثقافت اور مثبت تشخص کا فروغ
سرکاری اعلامیے کے مطابق اس منصوبے کا ایک اہم مقصد پنجاب کی ثقافت، سیاحت اور مثبت تشخص کو فلم اور میڈیا کے ذریعے دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔
مزید پڑھیں: 2025 میں پاکستان کی کن اہم شخصیات کی وفات ہوئی؟
یہ پہلی بار ہے کہ پنجاب میں اس نوعیت کی باقاعدہ فلم پالیسی اور اتھارٹی تشکیل دی جا رہی ہے جبکہ حکومت کے مطابق یہ اقدام انڈسٹری کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگا۔
اداکاروں اور انڈسٹری کا خیر مقدم
فلم اور ڈرامہ انڈسٹری سے وابستہ شخصیات نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ اداکار نسیم وکی کے مطابق پنجاب حکومت کا یہ فیصلہ فنکاروں کے لیے نئی امید ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فلم سٹی اتھارٹی کے قیام سے زیادہ پروجیکٹس شروع ہوں گے جس سے اداکاروں کو مستقل کام ملے گا۔ فنڈنگ اور سبسڈی سے پروڈکشن بجٹ بڑھے گا جس کا براہ راست فائدہ فنکاروں کی فیس اور روزگار پر پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ ٹریننگ پروگرامز کے ذریعے نئے اور موجودہ اداکاروں کو جدید اداکاری، ڈائیلاگ ڈیلیوری اور بین الاقوامی معیار کی تربیت حاصل ہوگی۔
مزید پڑھیے: پاکستانی ڈراموں کی کہکشاں کا ایک اور سورج غروب، شکیل دنیا چھوڑ گئے
قانون سازی اور آئندہ لائحہ عمل
پنجاب اسمبلی میں وی نیوز کے ذرائع نے بتایا کہ اس حوالے سے تشکیل دی گئی کمیٹی 2 ماہ میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ اس کے بعد مجوزہ بل پنجاب اسمبلی میں پیش کیا جائے گا اور منظوری کے بعد گورنر پنجاب سے حتمی توثیق حاصل کی جائے گی۔ مزید تفصیل جانیے اس ویڈیو رپورٹ میں۔













