مذاکرات میں پاکستان اتنی دلچسپی کیوں لے رہا ہے؟

جمعہ 24 اپریل 2026
author image

آصف محمود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا ایران مذاکرات میں پاکستان اتنی دلچسپی کیوں لے رہا ہے؟ اس کا کیا مفاد ہے؟ سادہ سا یہ سوال بڑے ذو معنی لہجے میں پوچھا جا رہا ہے تو آیے اس کا جواب تلاش کر لیتے ہیں۔

جہاں ساری مغربی دنیا لاتعلق ہو کر ایک طرف بیٹھی ہے ، پاکستان بھی بیٹھ سکتا تھا۔ پاکستان کے لیے کون سا مشکل کام تھا کہ اس سارے کھیل سے دامن بچا کر الگ ہو جاتا اور حسب ضرورت اقوال زریں جیسے دو چار بیانات دیتا رہتا تا کہ سند رہے۔ جہاں سارا یورپ اس قضیے سے بے نیاز ہے اور جہاں اقوام متحدہ بھی عملاً اپنے ہاتھ کھڑے کر کے دہائی دے رہی ہے کہ ’جاگدے رہنا، میرے تے نہ رہنا‘ وہاں پاکستان  بھی دوسری طرف منہ کر کے بہار کے گیت گنگنا سکتا تھا۔ پاکستان نے مذاکرات کا یہ بھاری پتھر آخر کیوں اٹھایا؟

سادہ سا جواب ہے، پاکستان کی دلچسپی کی 2 بڑی وجوہات ہیں۔

پاکستان سمجھتا ہے کہ کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ وہ اسے وسیع تناظر میں دیکھ رہا تھا۔ اسے معلوم تھا اس جنگ کا حقیقی معمار بھی صیہونیت ہے اور اس کے مقاصد کا تعین بھی اسرائیل کر رہا ہے۔ مقصد یہ تھا کہ یہ جنگ کسی طرح ایران اور عربوں کی جنگ میں بدل جائے۔ یہ سازش کامیاب ہو جاتی اگر بیچ میں پاکستان نہ ہوتا۔ یہ پاکستان تھا جس نے اس سازش کو ناکام بنایا۔  پاکستان ہی نے ایران سے بات کی اور پاکستان ہی کے کہنے پر سعودی عرب نے بھی غیر معمولی تحمل کا مظاہرہ کیا۔ یہ جو آتش فشاں پھٹ نہ سکا اور بعد میں باہمی رابطے سے جو برف پگھلی اس کی وجہ پاکستان ہے۔  مذاکراتی عمل میں پاکستان کی دلچسپی کی پہلی بڑی وجہ یہ خیر خواہی  ہے کہ امت آپس میں الجھ کر نہ  رہ جائے، ایسا نہ ہو کہ مسلم معاشرے میدان جنگ بن جائیں اور دشمن بیٹھ  کر تماشا دیکھتا رہے۔

مذاکراتی عمل میں پاکستان کی دلچسپی کی دوسری بڑی وجہ ایران سے خیر خواہی ہے۔ پڑوسی ملک ہے، مذاکراتی عمل سے اگر تباہی ٹل سکتی ہے تو اس میں کیا مضائقہ ہے۔ پاکستان اور ایران عشروں سے ساتھ رہ رہے ہیں۔ دھوپ چھاؤں سے واقف ہیں، پاکستان کی یہ خواہش تھی کہ مذاکرات سے معاملہ سنبھل جائے، رجیم چینج کی طرف بات نہ جائے ۔ سوال یہ ہے کہ اس میں کیا حرج ہے ۔

ہر ریاست کے مفادات ہوتے ہیں، مفادات ہونا کوئی بری بات نہیں، بس صرف یہ دیکھا جاتا ہے کہ مفادات کی نوعیت کیا۔ کیا وہ کسی دوسرے ملک کی سلامتی سے تو متصادم نہیں۔ پاکستان کے یہ دونوں مفادات تو صرف خیر خواہی پر مبنی ہیں، اس کےسوا کچھ بھی نہیں۔

پاکستان ان مذاکرات میں میزبان ہے، پاکستان ان کا محرک ہے، پاکستان اس جنگ میں فائر بریگیڈ کا کام کر رہا ہے۔ پاکستان امن کی شاخ زیتون پکڑ کر فریقین سے کہہ رہا ہے کہ امن کی طرف آؤ۔  مل بیٹھو اور اپنا مسئلہ حل کر لو۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان ثالث یا منصف نہیں ہے۔ پاکستان نے دونوں کو بٹھا کر کوئی فیصلہ نہیں سنانا کہ کوئی بدگمان ہوتا پھرے کہ پاکستان جانے کیا فیصلہ کر دے۔ فیصلہ فریقین نے خود کرنا ہے۔ اس فیصلے تک پہنچنے میں اگر کسی کی انا آڑے آ رہی ہو یا کسی کو راستہ درکار ہو تو پاکستان مدد و معاونت کے لیے تیار ہے۔ سیز فائر بھی پاکستان نے کروایا، دونوں کو ایک ساتھ بھی پاکستان نے بٹھایا، بات چیت میں تعطل آیا تو اس کو دور بھی پاکستان نے کیا، لبنان میں معاملات الجھے تو وہاں کا سیز فائر بھی پاکستان نے یقینی بنایا۔

امید کی ڈوری پاکستان نے اپنے قلب وجگر سے باندھ رکھی ہے، لڑنے والے مذاکرات کی میز سے اُٹھ کر چلے گئے لیکن پاکستان کا دارالحکومت آج بھی میزبانی کے آداب نبھا رہا ہے۔ سیکیورٹی انتظامات کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں، شہری دیکھ رہے ہیں کہ لڑنے والوں کے اپنے اپنے دارالحکومت میں تو زندگی رواں ہے لیکن پاکستان کا دارالحکومت سیکیورٹی انتظامات میں پھنسا ہوا ہے، لیکن اس کے باوجود پاکستان پیچھے نہیں ہٹا۔ وہ امن کا داعی ہے اور سمجھتا ہے کہ امن  جیسے بڑے مقصد کی خاطر یہ سب گوارا کیا جا سکتا ہے۔

اگر مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس کے بدلے میں پاکستان کو کیا ملنا ہے؟ کیا ایران نے آدھا آبنائے ہرمز پاکستان کے نام کر دینا ہے یا امریکا نے آئی ایم ایف کو سفارش کر کے پاکستان کے قرضے معاف کرا دینے ہیں۔ پاکستان کا تو عالم یہ ہے کہ مذاکرات کے عین دوران باتیں بھی سننا پڑ رہی ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات بھی پورے کرنا پڑ رہے ہیں، یو اے ای کو اس کی رقم بھی دینا پڑ رہی ہے۔ کسی کو بہت تنقید سوجھی ہے تو بتا دے کہ کون سا وہ ریلیف ہے جس کے لالچ میں پاکستان مذاکرات کے لیے اتنا بے چین ہے۔

پاکستان عوام کی خیر خواہی پاکستان کا امتیازی وصف ہے، اس کی کمزوری نہیں ہے۔ پاکستان کی ترجیح  امن اور معیشت ہے۔ پاکستان تصادم کو ٹالنا چاہتا ہے۔ اور پوری امید ہے کہ پاکستان کامیاب ہو گا کیونکہ ایران ہو یا امریکا جنگ سے اب دونوں ہی تنگ ہیں۔ پاکستان نے اپنی ہتھیلی پر دونوں کے لیے فیس سیونگ رکھی ہوئی ہے۔ پاکستان آج بھی چشم ما روشن دل ماشاد کی تصویر بنا ہوا ہے۔ امید کا ایک ہی دیا اس وقت روشن ہے اور اس کا نام پاکستان ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ پیشے سے وکیل ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آم کے آم گٹھلیوں کے دام: لذیذ کھانے بھی وزن کم کرنے کے عمل میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، جانیے کیسے؟

پی ایس ایل کے پلے آف مرحلے میں بھی شائقین کرکٹ اسٹیڈیم آ سکیں گے، وزیراعظم نے اجازت دیدی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید اتار چڑھاؤ، انڈیکس میں 1,174 پوائنٹس کی کمی

راولپنڈی اسلام آباد: پبلک ٹرانسپورٹ بندش کے دوران ریل سے سفر میں کتنا اضافہ ہوا؟

29 اپریل سے 3 مئی تک ہیٹ ویو کا خدشہ، محکمہ موسمیات نے الرٹ جاری کردیا

ویڈیو

خیبرپختونخوا حکومت آئینی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہی، وفاق کے ساتھ بہتر تعلقات ہونے چاہییں، سابق گورنر حاجی غلام علی

کیا ایران امریکا مذاکرات بحال ہوں گے؟پاکستانی شہری کیا سوچتے ہیں؟

صدر زرداری کا چین میں بڑا اقدام: زرعی عمل کاری اور جدید صنعت میں پاک چین تعاون کو نئی سمت دینے کا فیصلہ

کالم / تجزیہ

ٹرمپ کا بلف

ایران، امریکا مذاکرات: اعصاب کی جنگ کون جیتے گا؟

عالمی دن پر کتاب سے مکالمہ