تاریخ گواہ ہے کہ بحر ہند میں پاک بحریہ کی آبدوزوں نے بے مثال کار کردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ اس علاقے میں آبدوزوں کے حصول میں پہل بھی پاکستان نے ہی کی۔
اس کی ابتدا امریکا سے حاصل کردہ آبدوز غازی سے ہوئی۔ یہ سب میرین 4 ستمبر 1964ء کو بحری بیڑے میں شامل ہوئی۔ اس دن سے لے کر اپنے آخری سفر تک غازی نے پیشہ ورانہ کارگردگی اور بہادری کے ان مٹ نقوشی رقم کیے ہیں۔
نہ صرف یہ کہ غازی نے زیر سمندر اور سطح سمندر پر آپریشن کے حوالے سے ایک نمایاں مقام تعین کرنے کے قابل بنایا، بلکہ اس قوت کے حصول اور استعمال کا بنیادی ڈھانچہ بھی فراہم کیا۔ اور اس کی بدولت پاک بحریہ نے یکے بعد دیگرے اپنی آبدوزوں کی قوت کا خاطر خواہ اضافہ کیا۔
غازی کے فوراً بعد ڈیفنی کلاس کی آبدوزوں کے حصول سے یہ بیڑہ مضبوط ہوا۔ انہوں نے بھی قابل قدر خدمات انجام دیں۔ خاص کر 1971 کی جنگ میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس کے فورا بعد فرانس کے اگوسٹا (Agosta) کلاس آبدوزیں پاکستان فلیٹ میں شامل ہوئی۔ جو کہ ایک قابل قدر اضافہ ثابت ہوا۔
اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر پاک بحریہ سے ان آبدوزوں کی دیکھ بھال مرمت اور جدید سہولتیں فراہم کرنے کے موثر اقدام کئے۔ اس کا خیر خواہ نتیجہ یہ ہوا کہ پا ک بحریہ کی ڈاکیارڈ نے آبدوزوں کی تعمیر کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کرلی۔
اپنی صلاحیتوں کو کار بند کر کے پاکستان نے آبدوزوں کو اپنے ملک میں بنانے کا فیصلہ کیا۔ پہلی بار 3 میں سے 2 اگوسٹا (Agosta) سب میرین پاکستان میں تعمیر کی گئیں۔ آبدوزوں کو اپنے ملک میں تعمیر کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ سب میرین مزید فعال کرنے کے لیے اس میں( Air-Independent Propulsion)کا سسٹم نصب کیا جس سے سب میرین کی کار کردگی میں بھی اضافہ ہوا۔
اور اب زیادہ طویل عرصے تک سمندر میں قیام کر سکتی ہیں۔ بحر کیف ان سب اقدام کا فائدہ یہ ہوا کہ پاک بحریہ نے سب میرین آپریشن دیکھ بھال، مرمت اور تعمیر کا چار دہائیوں پر محیط ہنر اور تجربہ حاصل کر لیا۔ جس سے مستقبل میں بے پناہ فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔
اس سلسلے میں پاکستان نے اپنے قریب ترین اور قابل اعتماد ملک چین سے روابط استوار کئے۔ چین کو آبدوزوں کی جدید طرزیر تعمیر کا خاطر خواہ تجربہ ہے۔ ان سب عوامل کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان اور چین کے اشتراک سے 8 ہنگور آبدوزوں کی تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اس منصوبے کی بنیاد اس وقت عمل میں آئی جب چینی صدر شی جن پنگ نے 2015 میں اسلام آباد کا تاریخی دورہ کیا۔ اس معاہدے کی بدولت 4 آبدوزیں ووہان چین کی شپ یارڈ میں تعمیر کی جائیں گی۔ اور 4 آبدوزیں ٹیکنالوجی کی منتقلی کی بنیاد پر کراچی شپ یارڈ (KS &EW) میں تعمیر کی جائیں گی۔
یہ منصوبہ پاکستان کی تاریخ میں بحری معاہدوں میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور دو طرفہ تعاون کی اعلی مثال ہے۔ یہ آبدوزیں دونوں ممالک میں بیک وقت تعمیر ہو رہی ہیں اور مختلف مراحل میں ہیں۔ اس میں سسٹم کی تنصب بندرگاہ اور سمندری ٹرائلزسب ہی شامل ہیں۔
ہنگور کلاس کا نام بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ 1971 کی پاک بھارت کی جنگ میں ہنگور سب میرین نے بھارتی جہاز ککری کو ڈبویا تھا۔ اور ایک دوسرے جہاز کو بھی ناکارہ بنایا تھا۔ بہادری اور پیشہ ورانہ کارنامے کو جلا بخشنے کے لیے یہ نام تجویز کیا گیا ہے۔
مزید بر آں پاکستان میں زیر تعمیر سب میرین کا نام بھی اس وقت کے کمانڈنگ آفسر وائس ایڈمرل احمد تسنیم کے نام پر پی این ایس تسنیم تجویز کیا گیا ہے، جنہوں نے اس مشن کی جرات اور بہادری سے قیادت کے فرائض انجام دیے تھے۔
ہنگور کلاس آبدوزیں چین کی B039 آبدوزوں کے ہم پلہ ہیں۔ ان میں ہر قسم کی جدید مشینری آلات صوتی نظام، ریڈار، سونار، مضبوط ڈھانچے مشنری کی آواز کو نا دبانے والا ڈیزائن اور وہ تمام آلات موجود ہیں جو سب میرین کوناقابل شناخت صلاحیتں مہیاکرتی ہیں۔
مزید برآں یہ جدید آبدوزیں غیر معمولی اور مختلف رول کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ جن میں بھاری ٹار پیڈوز سمیت متعدد جنگی ہتھیاروں کی ایک کثیر تعداد رکھنے کی صلاحیت ہے۔
اپنی مضبوط دفاعی صلاحیت کو برقرار رکھتے ہوئے بیک وقت سطح، زیر سطح متعدد خطرات سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ طویل فاصلے تک اثر انداز ہونے والے ٹار پیڈوز اور کروز میزائل کا امتزاج ایک جارحانہ اور دفاعی صلاحیت اور قابل اعتماد نظام فراہم کرتا ہے۔
اس کے علاوہ ایک محفوظ مواصلاتی نظام بھی مہیا کیا گیا ہے۔ یہ نظام زیر آب کاروائیوں کے دوران بلا تعطل رابطے بحال رکھ سکتا ہے۔
غرض یہ کہ اس جدید آبدوز میں وہ سب کچھ شامل ہے جو ایک روایتی آبدوز میں مہیا کیا جاسکتا ہے۔ ہنگور کلاس آبدوزوں کی بر وقت شمولیت سے پاک بحریہ کی استعداد میں کئی گناہ اضافہ ہوگا۔
AIP ٹیکنالوجی جدید آلات، محفوظ مواصلاتی نظام ٹار پیڈوز کروز میزائل لمبی مدت تک سمندر پر رہنے کی صلاحیت زیر سمندر اور میری ٹائم دفاعی نظام اس کو ایک غیر معمولی اعلی قوت سے لیس کرتی ہے۔ انشاءاللہ یہ آبدوزیں ہمارے دفاع اور جارحانہ آپریشن میں کامیابی کی سند ثابت ہونگی۔ اور ہماری بحری قوت میں قابل قدر اضافہ کریں گی۔
اس کے ساتھ ہی ہو یہ منصوبے پاکستان اور چین کی لازوال اور پائیدار اشتراک کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔












