کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کسی بڑی کمپنی سے خریدی گئی چیز خراب ہو جائے اور کمپنی وارنٹی کے باوجود حیلے بہانوں سے کام لے تو آپ کیا کر سکتے ہیں؟ کراچی کے ایک شہری نے نہ صرف بڑی کمپنی کے خلاف آواز اٹھائی بلکہ انہیں کٹہرے میں لا کھڑا کیا۔
کراچی کی صارف عدالت وسطی نے ریفریجریٹر کی وارنٹی کیس میں معروف کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔
معاملہ کیا تھا؟
کراچی کے علاقے سعدی ٹاؤن کے رہائشی علی رضا نے دسمبر 2021 میں ایک انورٹر ریفریجریٹر 12 سال کی وارنٹی کے ساتھ خریدا۔ جب اگست 2024 میں فریج کا انورٹر سرکٹ خراب ہوا تو کمپنی نے یہ کہہ کر مفت مرمت سے انکار کر دیا کہ انورٹر کی وارنٹی تو صرف ایک سال تھی
یہ بھی پڑھیے: ٹیک کمپنیوں پر سروس ٹیکس: ٹرمپ کی برطانیہ پر بھاری ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی
کمپنی نے اسے ٹھیک کرنے کے لیے 9 ہزار روپے طلب کیے، جبکہ مارکیٹ میں اس کی قیمت محض 6 ہزار روپے تھی۔
عدالتی کارروائی اور کمپنی کے دلچسپ بہانے
صارف عدالت کے جج اسد اللہ میمن کی عدالت میں جب یہ کیس پہنچا تو کمپنی نے عجیب و غریب دلائل دیے۔ کمپنی کا کہنا تھا کہ فریج غلط طریقے سے نصب کیا گیا تھا۔ باوجود اس کے کہ ریفریجریٹر کوئی پیچیدہ مشین نہیں جسے لگانے کے لیے کسی خاص انجینئر کی ضرورت ہو، یہ صرف پلگ لگانے سے چل جاتا ہے۔
اگر تنصیب غلط تھی تو فریج 2 سال تک کیسے چلتا رہا؟ جبکہ درخواست میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ انورٹر سرکٹ، کمپریسر کا لازمی حصہ ہے، لہٰذا اس پر بھی 12 سالہ وارنٹی کا اطلاق ہوتا ہے۔
فروری 2026 میں عدالت نے حکم دیا کہ صارف کو فوری طور پر نیا ریفریجریٹر دیا جائے۔ ساتھ کمپنی صارف کو 20 ہزار روپے ہرجانہ اور 20 ہزار روپے قانونی اخراجات بھی ادا کرے۔
وارنٹ گرفتاری کیوں جاری ہوئے؟
عدالت کے فیصلے کے 30 دن گزرنے کے باوجود کمپنی نے نہ تو صارف کو نیا فریج دیا اور نہ ہی ہرجانہ ادا کیا۔ کمپنی کی انتظامیہ کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے مگر انہوں نے عدالتی احکامات کو مسلسل نظر انداز کیا۔ اس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جج اسد اللہ میمن نے 22 اپریل 2026 کو کمپنی کے سی ای او کے وارنٹ جاری کیے اور ایس ایچ او سول لائنز کو حکم دیا کہ انہیں گرفتار کر کے 7 مئی 2026 کو عدالت میں پیش کیا جائے۔
صارفین کے لیے اہم پیغام
قانونی ماہر خیر محمد خٹک کا کہنا ہے کہ یہ کیس ان تمام صارفین کے لیے ایک مثال ہے جو بڑی کمپنیوں کے نام سے مرعوب ہو کر اپنے حقوق سے دستبردار ہو جاتے ہیں جبکہ کمپنی اپنی شرائط خود سے تبدیل نہیں کر سکتی۔ اگر کوئی دکاندار یا کمپنی آپ کو ناقص چیز دے یا سروس سے انکار کرے، تو آپ صرف ایک سادہ درخواست کے ذریعے صارف عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔
قانونی نوٹس کی اہمیت
خیر محمد خٹک کا مزید کہنا ہے کہ اگر کمپنی آپ کی بات نہیں سن رہی، تو اسے قانونی نوٹس بھیجیں یہ نوٹس صارف خود کسی بھی کاغذ پر لکھ کر بھیج سکتا ہے اس میں بھی وکیل کی ضرورت نہیں، نوٹس کے باوجود اگر آپ کا مسلئہ حل نہیں ہوتا تو پھر صارف عدالت سے رجوع کریں اور صارف عدالت میں بھی یہ کیس کرنے کے لیے آپ کو وکیل کی ضرورت نہیں اور خاص بات یہ ہے کہ عدالت کی جانب سے فریقین کو سمن ہونے کے بعد عدالت اس کیس کو زیادہ سے زیادہ 6 ماہ میں نمٹانے کی پابند ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ قانون کی نظر میں کوئی کمپنی یا اس کا سی ای او قد آور نہیں ہے۔ صارفین کی آگاہی کسی بھی بڑی کی اجارہ داری ختم کرنے کا واحد راستہ ہے۔













