وارنٹی کی خلاف ورزی پر کیسے شہری نے معروف کمپنی کے سربراہ کے وارنٹ گرفتاری جاری کروا دیے؟

بدھ 29 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کسی بڑی کمپنی سے خریدی گئی چیز خراب ہو جائے اور کمپنی وارنٹی کے باوجود حیلے بہانوں سے کام لے تو آپ کیا کر سکتے ہیں؟ کراچی کے ایک شہری نے نہ صرف بڑی کمپنی کے خلاف آواز اٹھائی بلکہ انہیں کٹہرے میں لا کھڑا کیا۔

کراچی کی صارف عدالت وسطی نے ریفریجریٹر کی وارنٹی کیس میں معروف کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔

معاملہ کیا تھا؟

کراچی کے علاقے سعدی ٹاؤن کے رہائشی علی رضا نے دسمبر 2021 میں ایک انورٹر ریفریجریٹر 12 سال کی وارنٹی کے ساتھ خریدا۔ جب اگست 2024 میں فریج کا انورٹر سرکٹ خراب ہوا تو کمپنی نے یہ کہہ کر مفت مرمت سے انکار کر دیا کہ انورٹر کی وارنٹی تو صرف ایک سال تھی

یہ بھی پڑھیے: ٹیک کمپنیوں پر سروس ٹیکس: ٹرمپ کی برطانیہ پر بھاری ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی

کمپنی نے اسے ٹھیک کرنے کے لیے 9 ہزار روپے طلب کیے، جبکہ مارکیٹ میں اس کی قیمت محض 6 ہزار روپے تھی۔

عدالتی کارروائی اور کمپنی کے دلچسپ بہانے

صارف عدالت کے جج اسد اللہ میمن کی عدالت میں جب یہ کیس پہنچا تو کمپنی نے عجیب و غریب دلائل دیے۔ کمپنی کا کہنا تھا کہ فریج  غلط طریقے سے نصب کیا گیا تھا۔ باوجود اس کے کہ ریفریجریٹر کوئی پیچیدہ مشین نہیں جسے لگانے کے لیے کسی خاص انجینئر کی ضرورت ہو، یہ صرف پلگ لگانے سے چل جاتا ہے۔

اگر تنصیب غلط تھی تو فریج 2 سال تک کیسے چلتا رہا؟ جبکہ  درخواست میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ انورٹر سرکٹ، کمپریسر کا لازمی حصہ ہے، لہٰذا اس پر بھی 12 سالہ وارنٹی کا اطلاق ہوتا ہے۔

فروری 2026 میں عدالت نے حکم دیا کہ صارف کو فوری طور پر نیا ریفریجریٹر دیا جائے۔ ساتھ کمپنی  صارف کو 20 ہزار روپے ہرجانہ اور 20 ہزار روپے قانونی اخراجات بھی ادا کرے۔

وارنٹ گرفتاری کیوں جاری ہوئے؟

عدالت کے فیصلے کے 30 دن گزرنے کے باوجود کمپنی نے نہ تو صارف کو نیا فریج دیا اور نہ ہی ہرجانہ ادا کیا۔ کمپنی کی انتظامیہ کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے مگر انہوں نے عدالتی احکامات کو مسلسل نظر انداز کیا۔ اس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جج اسد اللہ میمن نے 22 اپریل 2026 کو کمپنی کے سی ای او کے وارنٹ جاری کیے اور ایس ایچ او سول لائنز کو حکم دیا کہ انہیں گرفتار کر کے 7 مئی 2026 کو عدالت میں پیش کیا جائے۔

صارفین کے لیے اہم پیغام

قانونی ماہر خیر محمد خٹک کا کہنا ہے کہ یہ کیس ان تمام صارفین کے لیے ایک مثال ہے جو بڑی کمپنیوں کے نام سے مرعوب ہو کر اپنے حقوق سے دستبردار ہو جاتے ہیں جبکہ کمپنی اپنی شرائط خود سے تبدیل نہیں کر سکتی۔ اگر کوئی دکاندار یا کمپنی آپ کو ناقص چیز دے یا سروس سے انکار کرے، تو آپ صرف ایک سادہ درخواست کے ذریعے صارف عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔

 قانونی نوٹس کی اہمیت

خیر محمد خٹک کا مزید کہنا ہے کہ اگر کمپنی آپ کی بات نہیں سن رہی، تو اسے قانونی نوٹس بھیجیں یہ نوٹس صارف خود کسی بھی کاغذ پر لکھ کر بھیج سکتا ہے اس میں بھی وکیل کی ضرورت نہیں، نوٹس کے باوجود اگر آپ کا مسلئہ حل نہیں ہوتا تو پھر صارف عدالت سے رجوع کریں اور صارف عدالت میں بھی یہ کیس کرنے کے لیے آپ کو وکیل کی ضرورت نہیں اور خاص بات یہ ہے کہ عدالت کی جانب سے فریقین کو سمن ہونے کے بعد عدالت اس کیس کو زیادہ سے زیادہ 6 ماہ میں نمٹانے کی پابند ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ  یہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ قانون کی نظر میں کوئی کمپنی یا اس کا سی ای او قد آور نہیں ہے۔ صارفین کی آگاہی کسی بھی بڑی  کی اجارہ داری ختم کرنے کا واحد راستہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مغربی امریکا میں شدید برفانی طوفان کی پیش گوئی، نظام زندگی بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ

معرکۂ حق میں کامیابی، پاکستان عالمی سطح پر امن کا علمبردار بن کر ابھرا، عطا اللہ تارڑ

خراب کولیسٹرول میں 50 فیصد تک کمی: سائنسدانوں نے نیا طریقہ علاج ڈھونڈ لیا

ٹرمپ کی تقریب میں فائرنگ سے قبل پولیس کے تربیت یافتہ کتے نے حملہ آور کی نشاندہی کی تھی، رپورٹ

پی ایس ایل 11: محمد علی پر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر جرمانہ عائد

ویڈیو

ٹرمپ کا کانگریس کو خط، ایران کے ساتھ مسلح کشیدگی کے خاتمے کا اعلان

پنجاب حکومت کی ’اپنا کھیت اپنا روزگار‘ اسکیم: لیہ کے بے زمین کسان کیا کہتے ہیں؟

ایندھن کی خریداری میں ہڑبونگ: عوام کی گھبراہٹ کتنی بجا، ملک میں ایندھن کتنا باقی؟

کالم / تجزیہ

صحافت بمقابلہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس: کون جیتے گا؟

امریکی دبدبہ

چندی گڑھ میں لاہوری