امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کو متنبہ کیا ہے کہ اگر اس نے امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر عائد ڈیجیٹل سروسز ٹیکس ختم نہ کیا تو اس کو بھاری ٹیرف کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 2026 چین کی برآمدات میں 22 فیصد اضافہ، امریکی ٹیرف کے باوجود تجارت میں بڑی بحالی
یہ ٹیکس جو سنہ 2020 میں متعارف کرایا گیا تھا سرچ انجنز، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور آن لائن مارکیٹ پلیسز کی آمدنی پر 2 فیصد ٹیکس ہے جو برطانوی صارفین سے حاصل کی جاتی ہے۔ اس میں امریکی کمپنیاں بشمول گوگل، میٹا اور ایپل شامل ہیں۔
اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ان ممالک کو تنقید کا نشانہ بنایا جو ان کے بقول امریکی کمپنیوں کو نشانہ بنا کر آسان کمائی کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں اور ہم اس کا جواب بہت آسانی سے برطانیہ پر بڑا ٹیرف لگا کر دے سکتے ہیں اس لیے انہیں محتاط رہنا چاہیے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر برطانیہ نے ٹیکس ختم نہ کیا تو امریکا ممکنہ طور پر اس پر بھاری ٹیرف عائد کرے گا تاہم انہوں نے اس کی کوئی مخصوص شرح نہیں بتائی۔
مزید پڑھیے: عالمی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، کینیڈین وزیراعظم نے گرین لینڈ پر امریکی ٹیرف ناقابل قبول قرار دیدیا
دوسری جانب برطانوی حکومت اس ٹیکس کا دفاع کرتی آئی ہے اور اسے ایک اہم مالی اقدام قرار دیا ہے۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اس ٹیکس سے 2024-2025 کے مالی سال میں تقریباً 800 ملین پاؤنڈ (1.08 ارب ڈالر) کی آمدنی حاصل ہوئی۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ ہفتوں میں ٹرمپ کی جانب سے برطانوی وزیر اعظم پر تنقیدی بیانات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے
مزید پڑھیں: امریکی ٹیرف کا دباؤ، بھارت نے لڑکھڑاتی معیشت کو بچانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کر دیے
مزید برآں یہ صورتحال ایسے وقت میں مزید اہمیت اختیار کرگئی ہے کہ جب برطانیہ برطانیہ کے بادشاہ چارلس اپنی ملکہ کے ہمراہ آئندہ ہفتے سرکاری دورے پر امریکا پہنچنے والے ہیں جہاں ان کی وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات متوقع ہے۔













