میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کراچی اور لاہور کے درمیان انفراسٹرکچر اور گورننس کے موازنے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں صوبائی دارالحکومتوں کی زمینی حقیقت ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہے، دونوں شہروں کا موازنہ غیر مناسب ہے۔
بدھ کے روز لاہور میں پنجاب کے وزیر ہاؤسنگ بلال یاسین کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ آبادی کے تناسب اور جغرافیائی حالات کے پیشِ نظر ایسا موازنہ کرنا درست نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: میئر کراچی مرتضی وہاب کیخلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کا کتنا امکان ہے؟
میئر کراچی کا کہنا تھا کہ کراچی کو پانی کی فراہمی 125 کلومیٹر دور سے کرنی پڑتی ہے۔ شہر کی روزانہ کی ضرورت 1100 ملین گیلن ہے جبکہ فراہمی صرف 550 ملین گیلن ہے، بڑھتی ہوئی آبادی اس چیلنج کو مزید مشکل بنارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں شہروں کے درمیان موازنہ کرنے سے صرف تنازعات جنم لیتے ہیں، اس لیے بہتر ہے کہ دونوں شہروں کی انتظامیہ مل کر کام کریں اور ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں۔
ملاقات کے دوران مرتضیٰ وہاب نے لاہور کے ادارے ‘واسا’ کا دورہ بھی کیا، جس کا مقصد اخراجات میں کمی اور انتظامی بہتری کے گر سیکھنا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن نے اپنی ماہانہ آمدن بڑھا کر 2.5 ارب روپے کر دی ہے، جبکہ واسا کی ماہانہ آمدن بھی تقریباً 1.7 سے 1.8 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:برادر ٹھیکے دار کون تھا؟ گراؤنڈ بنانے سے متعلق پوسٹ مرتضی وہاب کو مہنگی پڑگئی
ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی بلدیاتی ادارہ وسائل کے بغیر کام نہیں کر سکتا اور ریونیو میں اضافے کا مقصد عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں میئر کراچی نے کہا کہ کراچی اور لاہور کی تقسیم کو سیاسی رنگ دینا ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پنجاب حکومت مسلم لیگ (ن) کے وژن پر کام جاری رکھے گی جبکہ کراچی سٹی کونسل بلاول بھٹو زرداری کے وژن کے مطابق عوامی خدمت کرے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کراچی میں زیرِ تعمیر پلوں کو 90 دنوں کے اندر مکمل کرنے کا ہدف ہے اور سال 2026 کے اختتام تک شہر کے انفراسٹرکچر میں نمایاں بہتری نظر آئے گی۔














