وفاقی دارالحکومت کی عدالتی نظام میں اہم انتظامی تبدیلیاں عمل میں لائی گئی ہیں جہاں وزارت قانون نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز کے تبادلوں کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
ان تبادلوں کے بعد ایک بار پھر ججز کی سینیارٹی کے حساس اور پیچیدہ مسئلے نے قانونی و عدالتی حلقوں میں بحث کو جنم دے دیا ہے۔ بنیادی سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا منتقل ہونے والے ججز اپنی سابقہ سینیارٹی برقرار رکھیں گے یا نئی عدالتوں میں ان کی پوزیشن میں رد و بدل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: قائم مقام صدر نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز کے تبادلوں کی منظوری دے دی، وزارت قانون نے نوٹیفکیشن جاری کردیا
اس فیصلے پر مختلف حلقوں کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ بعض ماہرین اور سوشل میڈیا صارفین نے اسے عدالتی نظام میں بہتری کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر لاہور ہائی کورٹ کے ججز کا ملتان یا بہاولپور تبادلہ ممکن ہے تو اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے تبادلے پر اعتراض کیوں ہونا چاہیے۔
ان کے مطابق ججز کی روٹیشن سے مختلف عدالتی ماحول میں تجربہ حاصل ہوتا ہے جو مجموعی طور پر انصاف کے نظام کو مزید مؤثر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
اگر لاہور ہائی کورٹ کے ججز ملتان یا بہاولپور جا سکتے ہیں، تو اسلام آباد کے ججز کا تبادلہ کیوں نہیں؟ یہ دوہرا معیار ختم ہونا چاہیے۔ روٹیشن سے ہر جج کو مختلف ماحول میں کام کا موقع ملتا ہے، جس سے انصاف کا مجموعی نظام بہتر ہوتا ہے۔ pic.twitter.com/zx364Xt0tH
— Mahtab Alizeh Bugti (@Alizeh_Bugti) April 29, 2026
صحافی عبدالقیوم صدیقی کا کہنا تھا کہ ٹرانسفر سے عدلیہ پر ضرب نہیں لگی بلکہ پاکستان کا جو قانون ہے وہ یہی کہتا ہے کہ ہر ادارہ اپنی ڈومین میں رہ کر کام کرےگا لیکن ہوا یہ کہ عدلیہ اسٹیبلشمنٹ بن گئی جس سے معاملات بگڑ گئے۔
ایک رائے یہ بن رہی ہے کہ ججز کے ٹرانسفر سے عدلیہ کی آزادی پر سمجھوتہ ہوا ہے،مزمل سہروردی
میراخیال ہے کہ ان ٹرانسفر سے عدلیہ پر بھی ضرب نہیں لگی بلکہ پاکستان کا جو قانون ہے وہ یہی کہتا ہے کہ ہر ادارہ اپنی ڈومین میں رہ کر کام کرےگا لیکن ہوا یہ کہ عدلیہ اسٹیبلشمنٹ بن گئی جس سے… pic.twitter.com/CLwcxdbWlO— Muzamal Suharwardy Team (@MSuharwardy_) April 30, 2026
اسلام آباد ہائی کورٹ سے ججز کا تبادلہ ایک آئینی اور انتظامی ضرورت تھی جسے آج پورا کر دیا گیا۔ آرٹیکل 200(1) کے تحت جوڈیشل کمیشن کو یہ مکمل اختیار حاصل ہے۔ سیاسی مخالفت اپنی جگہ، مگر یہ قدم آزاد عدلیہ کے اصولوں کو مزید تقویت دے گا۔
عدالتی نظام میں اجارہ داری کا خاتمہ ناگزیر تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ سے ججز کا تبادلہ ایک آئینی اور انتظامی ضرورت تھی جسے آج پورا کر دیا گیا۔ آرٹیکل 200(1) کے تحت جوڈیشل کمیشن کو یہ مکمل اختیار حاصل ہے۔ سیاسی مخالفت اپنی جگہ، مگر یہ قدم آزاد عدلیہ کے اصولوں کو مزید تقویت دے گا۔… pic.twitter.com/fIcJphOqHQ
— A͟l͟i͟i͟i͟ⁱᴾⁱᵃⁿ (@_ialihassan) April 29, 2026
واضح رہے کہ غزالہ نورین کا کہنا تھا کہ گزشتہ 16 سال میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کو دیگر ہائی کورٹس میں منتقل کیا جا سکے گا جو کہ اسلام آباد بار کے وکلاء کا دیرینہ موقف بھی رہا ہے تا کہ ایک ہی اسٹیشن پر طویل تعیناتی کا سدباب ہو سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبائی ہائی کورٹس میں ججز کی روٹیشن معمول کا حصہ ہے۔ لہذا ججز کا تبادلہ کوئی غیر معمولی یا عدلیہ مخالف اقدام نہیں البتہ چونکہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں صوبائی ہائی کورٹس کی طرز پر بینچز موجود نہیں اس لیے یہاں روٹیشن کے لیے ٹرانسفر کا آئینی راستہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ اس لیے بظاہر آزاد عدلیہ کے اصول کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے
لہذا ججز کا تبادلہ کوئی غیر معمولی یا عدلیہ مخالف اقدام نہیں البتہ چونکہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں صوبائی ہائی کورٹس کی طرز پر بینچز موجود نہیں، اس لیے یہاں روٹیشن کے لیے ٹرانسفر کا آئینی راستہ اختیار کیا جا رہا ہے۔اس لیے بظاہر آزاد عدلیہ کے اصول کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے ۔ 2/2 ۔
— Ghazala Noreen Shahid (@GhazalaShahid5) April 28, 2026
اس فیصلے کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینیئر ترین جج جسٹس محسن اختر کیانی کا تبادلہ لاہور ہائیکورٹ کر دیا گیا ہے جہاں وہ سنیارٹی لسٹ میں 12 ویں نمبر پر ہوں گے۔ جسٹس محسن اختر کیانی اپنی سابقہ عدالت میں سینیئر ترین جج کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار کا تبادلہ پشاور ہائیکورٹ کردیا گیا ہے۔ وہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں سنیارٹی کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر تھے تاہم تبادلے کے بعد اب وہ پشاور ہائیکورٹ کے ججز میں چھٹے نمبر پر ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کا تبادلہ سزا نہیں انتظامی معاملہ ہے، وزیر مملکت بیرسٹر عقیل ملک
جسٹس ثمن رفعت امتیاز کو بھی سندھ ہائیکورٹ منتقل کر دیا گیا ہے جہاں وہ سنیارٹی لسٹ میں 16 ویں نمبر پر ہوں گی جبکہ وہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چھٹے نمبر پر موجود تھیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق یہ تمام تبادلے فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے جس کے بعد متعلقہ ججز اپنی نئی تعیناتی والی عدالتوں میں ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔














