پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر میں پارلیمانی بورڈ کے معاملے پر اختلافات شدت اختیار کر گئے، سابق جنرل سیکرٹری راجہ منصور خان اور ایم ایل اے چوہدری مقبول احمد نے متنازع پارلیمانی بورڈ کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے لائحہ عمل کا اعلان کر دیا۔
راجہ منصور خان کے مطابق جمعرات کے روز اسلام آباد پریس کلب میں آزاد کشمیر کے مختلف حلقہ جات سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی امیدواروں اور رہنماؤں نے پریس کانفرنس کے ذریعے پارلیمانی بورڈ کے حوالے سے دو ٹوک احتجاجی حکمت عملی دینا تھی اور احتجاج کو حتمی شکل دی جانی تھی، تاہم چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کی یقین دہانی پر پریس کانفرنس دو روز کیلئے موخر کر دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی کے 120 ارکان سے زبردستی پارٹی چھڑوائی گئی، شیرافضل مروت
انہوں نے کہا کہ دو ہفتے قبل بھی بڑی تعداد میں کارکنان نے اسلام آباد میں پارٹی کے سینٹرل آفس کے باہر جمع ہو کر یکطرفہ اور متنازع پارلیمانی بورڈ کو مسترد کیا تھا اور اس کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ بورڈ ایک مخصوص گروپ پر مشتمل ہے جس میں نظریاتی اور مخلص کارکنان کے ساتھ ساتھ یوتھ، آئی ایس ایف اور خواتین کو نظر انداز کیا گیا۔

راجہ منصور خان نے کہا کہ عمران خان کے دیرینہ ساتھی محمد اقبال کے استعفیٰ کے بعد پارلیمانی بورڈ اپنی اخلاقی اور آئینی حیثیت کھو چکا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کارکنان نے متنازع پارلیمانی بورڈ کو مسترد کرتے ہوئے تقریباً 100 درخواستیں ان کے پاس جمع کرائی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ بیرسٹر گوہر پارٹی کو متحد رکھنے اور ہزاروں کارکنان کی آواز کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا بہتر فیصلہ کریں گے جس پر کارکنان کا اعتماد بحال ہو سکے۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟
راجہ منصور خان کے مطابق ہفتے کے روز کارکنان کو آئندہ حکمت عملی سے آگاہ کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ ٹکٹ کے خواہشمند نہیں بلکہ پارٹی میں شفاف نظام چاہتے ہیں تاکہ ٹکٹ اور عہدے میرٹ کی بنیاد پر دیے جائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بیرسٹر گوہر کی یقین دہانی کے مطابق دو روز بعد دوبارہ اس معاملے پر کارکنان اور میڈیا سے گفتگو کی جائے گی۔














