بنگلہ دیش میں ہجوم کے تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات نے انسانی حقوق اور قانون کی عملداری پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق اپریل کے دوران ملک بھر میں ایسے 49 واقعات میں کم از کم 21 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم میں بھی تشویشناک اضافہ دیکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنیوں کو بنگلہ دیش میں تیل و گیس کی تلاش کا ٹھیکہ مل گیا
انسانی حقوق کی تنظیم منابادھیکار شونگسکرتی فاؤنڈیشن (MSF) کی جانب سے جاری ماہانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اپریل میں ہجوم کے تشدد کے 49 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں 21 افراد ہلاک ہوئے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس رجحان میں مسلسل اضافہ قانون کی عملداری کے کمزور ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس سے قبل مارچ میں 36 واقعات میں 19 افراد ہلاک اور 31 زخمی ہوئے تھے، جبکہ فروری میں 18، جنوری میں 21 اور گزشتہ سال دسمبر میں 10 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق 11 اپریل کو کوشتیا میں ایک مذہبی شخصیت پیر عبد الرحمان المعروف شمیم الجہانگیر کو ہجوم نے تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا۔ اپریل کے دوران ہجوم کے تشدد کے 30 متاثرین کو زخمی حالت میں پولیس کے حوالے کیا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 3 افراد قتل کے الزام، 7 چوری، 7 جھگڑوں کے دوران ہلاک، دو ڈکیتی جبکہ دیگر افراد مبینہ توہین یا زمین کے تنازعات کے باعث تشدد کا نشانہ بنے۔
رپورٹ میں خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد میں اضافے کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ اپریل میں ایسے 312 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں 54 ریپ اور 14 اجتماعی زیادتی کے کیسز شامل ہیں۔ اس دوران 89 خواتین اور بچے ہلاک ہوئے، جو مارچ کے 73 اموات کے مقابلے میں اضافہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آسام کے وزیراعلیٰ کے بیانات پر بنگلہ دیش کا احتجاج، بھارتی سفارتکار طلب
دوسری جانب سیاسی تشدد میں کمی دیکھی گئی، اپریل میں 3 افراد ہلاک اور 303 زخمی ہوئے، جبکہ مارچ میں یہ تعداد 14 ہلاکتوں اور 390 زخمیوں تک پہنچ گئی تھی۔ زیر حراست اموات بھی کم ہو کر 6 رہ گئیں، جو گزشتہ ماہ 11 تھیں۔
انسانی حقوق کے ماہرین کے مطابق ہجوم کے تشدد، خواتین کے خلاف جرائم اور مجموعی عدم تحفظ کی صورتحال بنگلہ دیش میں گورننس اور قانون کی عملداری کے لیے مسلسل چیلنج بنی ہوئی ہے۔














