سعودی عرب نے حج پالیسی میں ایک اہم تبدیلی کرتے ہوئے 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے حج کی ادائیگی پر پابندی عائد کر دی ہے، جس کا اطلاق فوری طور پر کیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی پالیسی کے تحت 15 سال سے کم عمر کوئی بھی بچہ حج ادا نہیں کر سکے گا۔ اس فیصلے پر عملدرآمد کے لیے تمام ایئرپورٹس کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ کم عمر عازمین کو حج پروازوں میں سوار ہونے سے روکا جائے۔
یہ بھی پڑھیے: وفاقی کابینہ نے حج پالیسی 2026 اور قومی مصنوعی ذہانت پالیسی کی منظوری دے دی
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کا کہنا ہے کہ مئی 2026 سے اس پابندی کا باقاعدہ اطلاق ہوگا اور کسی بھی کم عمر بچے کو حج فلائٹس کے ذریعے سفر کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایئرپورٹ عملے کو ہدایت دی گئی ہے کہ روانگی سے قبل عمر کی جانچ یقینی بنائی جائے۔
مزید برآں، 3 سال سے کم عمر بچوں کو جاری کیے گئے حج ویزے بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق متاثرہ عازمین کو مکمل رقم واپس کی جائے گی تاکہ اچانک پالیسی تبدیلی سے متاثر ہونے والے خاندانوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
اس فیصلے کے بعد ایسے خاندان جن کے ساتھ کم عمر بچے شامل ہیں، وہ موجودہ حج سیزن میں سفر نہیں کر سکیں گے۔ ایئر لائنز اور ایئرپورٹ حکام کو نئی ہدایات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کا کہا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: عازمین حج کے مدینہ منورہ پہنچنے کا عمل جاری: ریاض الجنہ کی زیارت، نسک کارڈ کی فراہمی
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق اس فیصلے کے نتیجے میں کراچی سے تعلق رکھنے والے 70 عازمین متاثر ہوں گے، جنہیں مکمل رقم واپسی کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کا کہنا ہے کہ یہ اقدام سعودی حکومت کی جانب سے مئی 2026 سے حج کے لیے متعارف کرائی گئی نئی پالیسی کا حصہ ہے، جس کا مقصد انتظامی امور کو بہتر بنانا ہے۔













