ملائیشیا میں طویل عرصے سے پناہ گزین روہنگیا مسلمانوں کو ایک بار پھر شدید عوامی اور حکومتی دباؤ کا سامنا ہے، جہاں نفرت انگیز مہم، سوشل میڈیا پر بے بنیاد الزامات، بے دخلی اور گرفتاریوں کے باعث اس برادری میں خوف بڑھتا جا رہا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ روہنگیا بچوں کے لیے اسکول جانا بھی خطرناک محسوس ہونے لگا ہے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق شمالی ملائیشیا میں روہنگیا بچوں کے لیے قائم ایک اسکول پر گزشتہ ماہ پولیس نے چھاپا مارا۔ 8 وردی پوش اہلکار اسکول میں داخل ہوئے، طلبہ کی تصاویر بنائیں اور بعض بچوں کو گھروں کو واپس جانے کا حکم دیا۔ اسکول کے بانی ایرحان (جن کا نام شناخت کے تحفظ کے لیے تبدیل کیا گیا ہے) کہتے ہیں کہ بچے صرف تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں لیکن اب ان کے خاندان خوفزدہ ہیں۔
A weird Malaysian nationalist was seen harassing Rohingya on the Rohingya genocide Memorial Day event in KL. Notice his arm band and his phenotype. pic.twitter.com/263hm1czet
— Mahmud Ro 🍃 (@MahmudZUllah) August 26, 2026
ملائیشیا کے سرکاری اسکولوں میں روہنگیا بچوں کو داخلے کی اجازت نہیں، اس لیے وہ عموماً کمیونٹی یا فلاحی اداروں کے زیرانتظام غیر رجسٹرڈ تعلیمی مراکز میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ بی بی سی کے مطابق حالیہ کریک ڈاؤن اور غیر یقینی صورتحال کے باعث بعض اسکول بند بھی ہوگئے ہیں، جبکہ سیلنگور کے ایک اسکول نے دوبارہ کھلنے کے بعد طلبہ کو یونیفارم پہننے اور کلاس کے بعد باہر رکنے سے منع کردیا۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق ملائیشیا میں ایک لاکھ 26 ہزار سے زائد روہنگیا پناہ گزین آباد ہیں، جو بنگلہ دیش کے بعد روہنگیا کی میزبانی کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔
روہنگیا مسلمانوں کو میانمار میں شہریت سے محروم رکھا گیا ہے۔ 2017 میں میانمار کی فوجی کارروائی کے بعد 10 لاکھ سے زیادہ روہنگیا بنگلہ دیش سمیت مختلف ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ اقوام متحدہ نے اس فوجی کارروائی کو ’نسلی تطہیر کی واضح مثال‘ قرار دیا تھا، جبکہ امریکا نے اسے نسل کشی قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:میانمار 3 لاکھ سے زائد روہنگیا پناہ گزینوں کو واپس لینے کو تیار
بی بی سی کے مطابق ملائیشیا نے کبھی باضابطہ طور پر پناہ گزینوں کو تسلیم نہیں کیا، جس کے باعث روہنگیا کو رہائش، روزگار اور تعلیم کے قانونی حقوق حاصل نہیں۔ اس کے باوجود مسلم اکثریتی ملک ہونے کی وجہ سے وہ طویل عرصے تک ملائیشیا کو محفوظ پناہ گاہ سمجھتے رہے۔
حالیہ برسوں میں صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔ سوشل میڈیا پر قربانی کے جانوروں سے متعلق ایک واقعے کے بعد روہنگیا کے خلاف بے بنیاد دعوے پھیلائے گئے کہ وہ ملائیشیا کی شہریت اور سیاسی طاقت حاصل کرکے ملک پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ روہنگیا کو ملک سے نکالنے کی ایک آن لائن درخواست پر 4 لاکھ 20 ہزار سے زائد دستخط بھی ہوئے۔
گزشتہ ماہ پینانگ کے قریب ایک ماہی گیر بستی سے بے دخل کیے گئے تقریباً 120 روہنگیا، جن میں نصف سے زیادہ بچے تھے، کو کوالالمپور میں اقوام متحدہ کے مہاجرین کے ادارے کے باہر پناہ لینے کے دوران عارضی طور پر حراست میں لے لیا گیا۔
Rohingya refugees face fierce new wave of hostility in Malaysia https://t.co/Rf2egkE6Tz
— BBC News (World) (@BBCWorld) August 27, 2026
بی بی سی کے مطابق ملائیشیا کے بعض سیاسی اور عوامی حلقوں میں بھی روہنگیا مخالف بیانات میں اضافہ ہوا ہے۔ وزیراعظم انور ابراہیم نے جولائی میں کہا تھا کہ میانمار 5 ہزار روہنگیا پناہ گزینوں کو واپس لینے پر آمادہ ہوگیا ہے اور روہنگیا کو ملائیشیا کے شہریوں کی زندگی متاثر نہ کرنے کی تنبیہ بھی کی تھی۔
انسانی حقوق کے گروپ فورٹائف رائٹس کی محقق یاپ لائی شینگ کے مطابق مہاجرین اور پناہ گزینوں کو ایک بار پھر ملکی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے سیاسی قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔ روہنگیا رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ بالآخر میانمار واپس جانا چاہتے ہیں، مگر وہاں جاری خانہ جنگی اور راکھین ریاست میں تباہی کے باعث واپسی فی الحال ان کے لیے محفوظ نہیں۔
ایک روہنگیا استاد فاروق نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے میانمار میں نسل کشی سے بچ کر ملائیشیا میں پناہ لی تھی، لیکن اب یہاں بھی بہت سے روہنگیا صرف اپنی شناخت کی وجہ سے خوف میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے بچے کسی سیاسی مطالبے کے بجائے صرف تعلیم حاصل کرنے کا موقع چاہتے ہیں۔














