چین نے امریکا کی جانب سے 5 چینی آئل ریفائنریز پر عائد پابندیوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے یکطرفہ اور بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دیا ہے۔ چینی حکام نے واضح کیا ہے کہ وہ ان پابندیوں کو تسلیم نہیں کرتے اور متعلقہ کمپنیوں کو امریکی فیصلے پر عمل نہ کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
Beijing issues injunction to block illegal US sanctions on Chinese refineries processing Iranian oil
——
In a direct challenge to Washington’s "long-arm jurisdiction," China’s Ministry of Commerce issued a formal injunction on Saturday to neutralize US sanctions against five… pic.twitter.com/e60sjaxjwC— The Cradle (@TheCradleMedia) May 2, 2026
چینی وزارتِ تجارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا کا یہ اقدام عالمی تجارت کے اصولوں، آزاد منڈی کے ضوابط اور ممالک کے درمیان معاشی تعاون کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ وزارت کے مطابق کسی بھی ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ یکطرفہ طور پر دوسرے ملک کی کمپنیوں پر اپنی پابندیاں مسلط کرے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا میں چینی روبوٹس پر پابندی کے لیے قانون سازی کی تیاری
چینی ذرائع ابلاغ شِنہوا اور گلوبل ٹائمز کے مطابق بیجنگ حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کی تجارت بین الاقوامی سپلائی چین کا حصہ ہے اور اسے سیاسی دباؤ کے ذریعے متاثر نہیں کیا جا سکتا۔ ان رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ چین توانائی کی ضروریات کے لیے مختلف عالمی منڈیوں سے قانونی طریقوں کے تحت تیل کی خریداری جاری رکھے گا۔

دوسری جانب امریکا کی وزارت خزانہ نے حال ہی میں الزام عائد کیا تھا کہ چین کی 5 آئل ریفائنریز نے اربوں ڈالر مالیت کا ایرانی تیل خریدا ہے، جو امریکی پابندیوں کے دائرے میں آتا ہے۔ اسی بنیاد پر ان کمپنیوں پر نئی پابندیاں عائد کی گئیں۔
چینی حکام نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ توانائی کی تجارت بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہے اور امریکا کو دوسرے ممالک کی تجارتی پالیسیوں پر یکطرفہ فیصلے مسلط نہیں کرنے چاہiیں۔














